نیپال کے سرحدی شہر برگنج میں کشیدگی، مسجد کی بے حرمتی کے بعد کرفیو نافذ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
نیپال اور بھارت کی سرحد کے قریب واقع شہر برگنج میں مسجد کی بے حرمتی اور مسلمانوں کی املاک پر حملوں کے بعد حالات سنگین ہو گئے ہیں، جس کے پیش نظر حکام نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز ہندو انتہا پسند عناصر نے برگنج میں واقع ایک مسجد پر دھاوا بولا، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی، جس کے نتیجے میں مقامی مسلمان شدید غم و غصے میں مبتلا ہو گئے۔
مسجد کی بے حرمتی کے خلاف عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مظاہروں کے دوران پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔
صورتحال کے بگڑنے کے بعد حکام نے دارالحکومت کٹھمنڈو سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب میں واقع اس شہر میں کرفیو نافذ کر دیا۔ انتظامیہ کے مطابق شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے، اجتماعات اور مظاہروں کی اجازت نہیں ہوگی۔
سرکاری احکامات میں سیکیورٹی فورسز کو کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی، حتیٰ کہ فائرنگ کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔