بھارت کی وعدہ خلافیوں کی وجہ سے لداخ میں بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے، حاجی اصغر علی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے شریک چیئرمین حاجی اصغر علی کربلائی نے ایک میڈیا انٹرویو میں لداخ کے عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ سال سے لہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے کی قیادت میں لداخی عوام ایک پائیدار اور پرامن جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کے رہنما حاجی اصغر علی کربلائی نے خبردار کیا ہے کہ خطے کے بنیادی آئینی مطالبات سے متعلق بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی بے حسی اور مسلسل وعدہ خلافیوں کی وجہ سے لداخیوں میں بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے اور وہ اپنے جائز حقوق کی بحالی تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ذرائع کے مطابق کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے شریک چیئرمین حاجی اصغر علی کربلائی نے ایک میڈیا انٹرویو میں لداخ کے عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ سال سے لہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے کی قیادت میں لداخی عوام ایک پائیدار اور پرامن جدوجہد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ بات چیت ہے، لیکن بھارتی حکومت کی مسلسل بے حسی اور وعدہ خلافیوں نے لداخ کے لوگوں کو اپنی آواز سنانے کے لیے احتجاج، دھرنوں اور ایجی ٹیشنز کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا۔ کربلائی نے ریزرویشن اور روزگار سمیت اہم مسائل کے تئیں مودی حکومت کے مایوس کن رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر اعلی تعلیم کے شعبے میں گزیٹڈ پوسٹوں کی آئوٹ سورسنگ اور کنٹریکٹ سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو خطے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دوران ناقابل قبول قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے خدشات کو اس سنجیدگی کے ساتھ دور نہیں کیا جا رہا، جس کے وہ حقدار ہیں۔ کربلائی نے 24ستمبر کو لداخ کی تاریخ کا سیاہ دن قراردیتے ہوئے کہا کہ اس دن بھارتی فورسز نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کرکے چار نوجوان کو ہلاک، 90 سے زائد کو زخمی اور 70 سے زائد کو گرفتار کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی بے گناہ افراد جیل میں ہیں جن میں ممتاز لداخی کارکن سونم وانگچک بھی شامل ہیں جنہیں تعلیم اور ماحولیاتی مقاصد کے لیے اپنی دہائیوں کی خدمات کے باوجود 100دنوں سے زائد عرصے سے کالے قانون قومی سلامتی ایکٹ کے تحت نظربند رکھا گیا ہے۔ کربلائی نے کہا کہ ایل اے بی اور کے ڈی اے نے بھارتی حکومت کے ساتھ اپنی پہلی ہی میٹنگ میں سونم وانگچک سمیت تمام نظربندوں کی غیر مشروط رہائی اور ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے اہل خانہ کے لیے باوقار اور مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ مطالبات نہیں مانے جاتے، لداخ میں بدامنی برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ 24ستمبر کے بعد بھارتی حکومت نے ایل اے بی اور کے ڈی اے سے چھٹے شیڈول کی حیثیت اور ریاست کے بارے میں مشترکہ تحریری مسودہ طلب کیا تھا جسے مقررہ مدت میں جمع کرایا گیا تھا۔ تاہم تین دن میں ایک اور ملاقات کی یقین دہانی کے باوجود ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود مزید مذاکرات نہیں ہو سکے۔ انہوں نے اس معاملے پر دہلی کی خاموشی کو عوام کے صبر کا ایک سنگین امتحان قرار دیا۔ انہوں نے اس مفروضے کے خلاف خبردار کیا کہ لداخ کے لوگوں کو زیر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بعض عناصر کی طرف سے لداخ کے بدھوں اور مسلمانوں کے درمیان، یا کرگل اور لہہ کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کے خلاف بھی خبردار کیا۔ انہوں نے مقامی لوگوں پر زور دیا کہ وہ خطے کی اجتماعی آواز کو کمزور کرنے کی کسی بھی سازش کے خلاف متحد رہیں۔انہوں نے کہاکہ لداخ کے لوگوں کی پرامن تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے آئینی اور قانونی حقوق مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ حاجی اصغر علی بھارتی حکومت اور کے ڈی اے کربلائی نے لداخ کے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔