پی ٹی آئی کا ملٹری آپریشن سے متعلق پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے منافی بیانات نہ صرف جمہوری اقدار کے خلاف ہیں بلکہ ریاستی اداروں کے وقار کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین اور عوامی اعتماد رکھنے والے رہنما ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں کسی ریاستی ادارے کے ترجمان کی جانب سے سیاسی نوعیت کے بیانات آئینی روح اور جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور…
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) January 6, 2026
بیان میں واضح کیا گیا کہ ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور مختلف مکاتبِ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
سہیل آفریدی کے مطابق اصل مسئلہ دہشتگردی کے خلاف سنجیدگی کا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کا ہے، جس میں زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔
بیان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں آج بھی عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود اور نقل مکانی کے خدشات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کا دورہ کراچی، پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت طلب کرلی
سہیل آفریدی کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا، جو پالیسی سازی اور عمل درآمد میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ماضی کی حکمتِ عملی بھاری جانی و مالی نقصانات کے باوجود کامیاب نہ ہو سکی تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ایک نیا ملٹری آپریشن پائیدار امن قائم کر سکے گا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی نئے اقدام سے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
سہیل آفریدی کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام نے تقریباً 80 ہزار جانوں کی قربانی دی، ایسے میں صوبے کے عوام یا ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشتگردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی خود دہشتگردی کا نشانہ بنتی رہی ہے اور اس کے متعدد عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء جان کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ ایسے میں غیر ذمہ دارانہ الزامات نہ صرف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ خطرناک سیاسی تاثر بھی پیدا کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے آخر میں مطالبہ کیا کہ دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کے حل کے لیے یکطرفہ فیصلوں اور پریس کانفرنسوں کے بجائے خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مکاتبِ فکر پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل کیا جائے اور مستقبل کی پالیسی سازی عوامی نمائندوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈی جی آئی ایس پی آر سہیل آفریدی ملٹری آپریشنز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر سہیل ا فریدی ملٹری ا پریشنز وزیراعلی خیبرپختونخوا پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا ملٹری آپریشن سہیل ا فریدی ہیں بلکہ ایسے میں کے لیے یہ بھی ایس پی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔