بالی ووڈ کی حالیہ بلاک بسٹر فلم ’دھرندھر‘ میں رحمان ڈکیت کی انٹری پر مشہور عربی گانا گانے والے بیحرینی ریپر فلپراچی نے فلم کے سیکوئل سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔ 

سوشل میڈیا پربالی ووڈ فلم ’دھرندھر‘ میں ہیرو سے زیادہ ولن کا کردا ادا کرنے والے اکشے کھنہ کے کردار ’رحمان ڈکیت‘ کی تعریف ہورہی ہے۔ 

خاص طور پر فلم میں ان کی ایک بلوچ رہنما سے ملاقات کے دوران رحمان ڈکیت کی انٹری سین پر گایا جانے والا گانا بے حد وائرل ہورہا ہے اور اکشے کھنہ بھی اپنے انداز میں اس دھن پر رقص کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 

اس گانے کا ٹائٹل ’FA9LA‘ یعنی ’فاصلہ‘ ہے، جسے بحرین سے تعلق رکھنے والے ریپر ’فلپراچی‘ نے گایا ہے، یہ گانا پہلی بار فلم کی ریلیز سے ڈیڑھ سال قبل یعنی 6 جون 2024 کو اپنے یوٹیوب چینل پر ریلیز کیا تھا۔ 

فلپراچی کا اصل نام ’حسام عاصم‘ ہے اور وہ عرب دنیا میں ہپ ہاپ موسیقی کا ایک بڑا نام ہیں جب کہ یہ گانا عربی زبان میں گایا گیا ہے تاہم اس میں لہجہ بحرین میں بولی جانے والی عربی زبان کا ہے۔

انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں فلپراچی کا کہنا تھا کہ سچ کہوں تو یہ سب پاگل پن لگ رہا ہے، میرے ڈی ایمز ہر روز بھر رہے ہیں، میں ان لوگوں کا جواب نہیں دے پا رہا جو مجھے اس گانے پر ٹیگ کر رہے ہیں تاہم میں اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ 

جب ان سے اگلے سال متوقع دھرندھر 2 میں واپسی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں میں اسے سرپرائز رکھنا چاہتا تھا، مگر شاید کچھ نہ کچھ ہے، میں سب کچھ بتانا نہیں چاہوں گا، لیکن ہاں، کچھ ہو سکتا ہے۔ 

انہوں نے انکشاف کیا کہ جب پہلی بار مجھے بتایا گیا کہ تمہارا گانا بھارت میں دھوم مچا رہا ہے،تو مجھے یقین نہیں ہوا لیکن جب یہ ٹریک اکشے کھنہ کے ساتھ ہر جگہ وائرل ہوا تو میرے لیے حیران کن تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے لیاری کینگ وار پر بننے والی بھارت کی پروپیگنڈہ فلم ’دھرندھر‘ عالمی سطح پر 1200 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کر چکی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رہے ہیں

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف