کراچی، موسم مزید سرد ہونے کا امکان، فضائی معیار بدستور انتہائی مضر صحت
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)شہر قائد میں آج سرد ہواؤں کے باعث موسم مزید سرد ہو گیا ہے۔ رات اور صبح سویرے ٹھنڈی ہواؤں کے چلنے سے سردی کی شدت میں اضافہ محسوس کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں کم سے کم درجہ حرارت 14 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ موجودہ درجہ حرارت 16 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 23 سے 24 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرق کی جانب سے 18 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 54 فیصد ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب شہر قائد کا فضائی معیار آج بھی انتہائی مضر صحت قرار دیا گیا ہے۔
ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کے مطابق کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر موجود ہے، جس کے باعث شہریوں خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔