26 نومبر 2024 احتجاج پر درج مقدمہ میں علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے 26 نومبر 2024 احتجاج پر درج مقدمہ میں علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے، ملزمہ کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد جبکہ پراسیکیوشن کی استدعا پر عدالت نے مقدمہ کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا حکم دے دیا۔
علیمہ خان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کل جمعرات تک ملتوی کر دی گئی، مقدمہ کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
گھڑ سواری میں پاکستان کا تاریخی اعزاز، عثمان خان عالمی رینکنگ میں سرفہرست
ملزمہ کی جانب سے ان کے وکیل فیصل ملک جبکہ سرکار کی جانب سے پراسیکیوٹر ظہیر شاہ عدالت پیش ہوئے۔سماعت کے دوران 5 ملزمان کے وکلاء کی جانب سے 10 گواہوں پر جرح مکمل کرلی گئی جبکہ ملزمان کے وکلاء کی جانب سے ان گواہان پر آج جرح نہ ہو سکی۔
مقدمہ کے پراسیکیوٹر ظہیر ںشاہ کا سماعت کے موقع پر کہنا تھا کہ اس قدمہ کی 28 سماعتیں ہوچکی ہیں، علیمہ خان کی کنڈکٹ کی وجہ سے یہ مقدمہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے لہذا مقدمہ کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا جائے۔
نجی یونیورسٹی کی زخمی طالبہ کے علاج کیلئےقائم میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو
علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر بھی پراسیکیوشن نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کے ساتھ لاہور میں زیر سماعت مقدمات کی کاز لسٹ موجود نہیں ہے جس پر عدالت نے ملزمہ علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور کی درخواست کی جانب سے علیمہ خان مقدمہ کی
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔