پاکستان کا وینزویلا میں صورتحال پرگہری تشویش کااظہار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کیلئے نیک شگون نہیں
کارروائیاں عالمی امن کیلئے خطرہ ، سیاسی اختلافات کا واحد حل مکالمہ اور سفارتکاری ہے،پاکستان
پاکستان نے وینزویلا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے اسے عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیااورکہاکہ کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتکاری پر زوردیا ہے ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے،بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کیلئے نئے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔عثمان جدون نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا واحد حل مکالمہ اور سفارتکاری ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان وینزویلا میں حالیہ پیش رفت کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے، ایسے عالم میں جب دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے، کیریبین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے نیک شگون نہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا منشور ہمیں اس امر کا پابند بناتا ہے کہ ہم کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے باز رہیں، منشورِ اقوامِ متحدہ رکن ممالک کو خودمختار مساوات، دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن ذرائع سے حل کا بھی پابند کرتا ہے۔عثمان جدون نے کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائی ان مقدس اصولوں اور ریاستی خودمختار استثنی کے نظریئے کی صریح خلاف ورزی ہے، اس طرح کے اقدامات خطرناک نظائرقائم کرتے ہیں جو عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کرنے کا خدشہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں، جو جیسا کہ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے، آنے والے برسوں تک غیر متوقع اور بے قابو نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔عثمان جدون کا کہنا ہے کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہونا چاہئے، سیاسی اختلافات کے پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے ہی تلاش کئے جا سکتے ہیں، وینزویلا کے عوام کی آزادانہ مرضی کے مکمل احترام کے ساتھ اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے پاک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ لاطینی امریکہ اور کیریبین کا خطہ حیثیت ایک زونِ امن، تصادم اور محاذ آرائی سے محفوظ رہے گا اور خطے کے عوام کے لئے بہتر خوشحالی اور مضبوط علاقائی تعاون کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا۔ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں، پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیں، کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس نازک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتا ہو اور خلوصِ نیت سے پیش کی گئی ثالثی کی پیشکشوں سمیت مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔