سندھ حکومت کا کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
سکھر:
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کردیا ہے ان کا مکمل صفایا کردیں گے تاہم جو ڈاکو ہتھیار ڈالے گا اسے ایک موقع ضرور دیں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر داخلہ سندھ سکھر پہنچے جہاں ڈی آئی جی سکھر دفتر آمد پر پولیس کے خصوصی دستے نے انھیں سلام پیش کیا۔ وزیر داخلہ سندھ نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے انہیں جرائم کے خلاف پولیس اقدامات اور کامیاب اہداف پر بریفنگ دی۔
آئی جی نے بتایا کہ کچہ اور پکا ایریاز دونوں میں پولیس دستے متحرک اور مستعد ہیں، ڈاکوؤں کی کمین گاہوں کو مسمار کرکے ان کے سہولت کاروں کو بھی نکیل ڈالی جارہی ہے، جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کا تعاقب جاری ہے، کچہ کے علاقوں میں پولیس کی مستقل موجودگی سے جرائم کی بیخ کنی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی تسلی بخش اور قابلِ تحسین ہے، کچہ اور پکا ایریاز میں جرائم کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے، ڈاکوؤں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، امن و امان کے قیام کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اجلاس میں سندھ میں امن و امان اور کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی پر بات ہوئی، کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کردیا ہے اور سمجھیں کہ آج سے ہی آپریشن شروع ہوگیا، وہ ڈاکو جو ہتھیار ڈال کر خود کو انتظامیہ کے حوالے کردیں گے انہیں ایک موقع دیا جائے گا مگر وہ ڈاکو جو خود کو طاقت ور سمجھتے ہیں اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور انہیں نیست و نابود کردیں گے۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا اس گرینڈ آپریشن میں فوج کی ضرورت پڑے گی؟ اس سوال پر انہوں ںے کہا کہ فی الوقت فوج کی ضرورت نہیں، سندھ پولیس ڈاکوؤں سے نمٹنے کی اہلیت رکھتی ہے جب کہ رینجرز پہلے سے ہمارے ساتھ موجود ہے، امید ہے ڈاکوؤں کا مکمل صفایا ہوجائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔