بھارت کے شہر ممبئی میں الیکشن کیمپین کے دوران آتش بازی سے بالی ووڈ اداکارہ ڈیزی شاہ کی رہائشی بلڈنگ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔

اداکارہ ڈیزی شاہ نے انسٹاگرام پر اس خطرناک واقعے کی ویڈیو شیئر کی اور شہریوں کی حفاظت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔

ڈیزی شاہ کے مطابق باندرہ میں ان کی رہائش گاہ کے بلکل برابر میں واقع ایک فلیٹ میں آگ لگ گئی، جس کی وجہ سیاسی مہم کے دوران جلائے گئے آتش بازی کے پٹاخے تھے۔

اداکارہ نے بتایا کہ انتخابی مہم کے نام پر ہونے والی جشن کی سرگرمیوں نے آس پاس رہنے والے لوگوں کی جان و مال کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔

ویڈیو میں شعلے اور دھواں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر تشویش کی لہر دوڑا دی۔

        View this post on Instagram                      

ڈیزی شاہ کا کہنا تھا کہ گنجان آباد علاقوں میں اس طرح کی لاپرواہی ناقابلِ قبول ہے اور اس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔

ان کے بیان کے بعد ممبئی میں انتخابی مہم کے دوران آتش بازی کے استعمال پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ شہریوں نے بھی حفاظتی اقدامات سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بعد ازاں ان پر سیاسی کارکنان کی جانب سے شدید تنقید کے بعد انہوں نے اپنے دفاع میں ایک اور ویڈیو شیئر کی جس میں واقعے کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا۔

        View this post on Instagram                      

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے دوران ڈیزی شاہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن