شیر افضل مروت محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر عمران خان کے خلاف بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
سینیئر سیاستدان شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے فیصلوں پر سوالات اٹھا دیے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے تحت منعقدہ نیشنل کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، لیاقت بلوچ، بیرسٹر سیف، عمران اسماعیل اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت شامل تھے۔
کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قیادت اور فیصلوں پر کھل کر تنقید کی۔
کوئی ایک فیصلہ بھی ٹھیک نہیں کیا گیا، اتنی بڑی جماعت ہے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کسی اور جماعت سے ہے،قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کسی اور جماعت سے ہے
شیر افضل مروت pic.
— Ehtisham ul haq (@ehtishamulhaq87) January 7, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود اپوزیشن لیڈر کے لیے کسی اور شخصیت کو نامزد کیا گیا، جو فیصلہ سازی پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایسے فیصلے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، اور سوال اٹھایا کہ کیا کوئی ایک فیصلہ بھی درست ثابت ہوا ہے۔
دوسری جانب بیرسٹر سیف نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملک کو اس وقت شدید سیاسی پولرائزیشن کا سامنا ہے، جس کے باعث مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے مکالمے قومی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم بعض سیاسی جماعتوں کی عدم شرکت اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ انہیں سیاسی نقصان کا اندیشہ ہے۔
بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال سے حکمران طبقات کو خدشات لاحق ہیں، تاہم مسائل کا حل بات چیت اور مفاہمت میں ہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews شیر افضل مروت عمران خان فیصلوں پر تنقید محمود اچکزئی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شیر افضل مروت فیصلوں پر تنقید محمود اچکزئی وی نیوز شیر افضل مروت اپوزیشن لیڈر
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔