روسی جوہری آبدوز نے وینزویلا کے تیل بردار جہاز کو پکڑنے کی امریکی کوشش ناکام بنا دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ روس ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف سہارا دیتا ہے۔ بین الاقوامی پانیوں میں روسی بحری جہازوں کی موجودگی مکمل طور پر قانونی ہے اور یہ سمندری قوانین کے مطابق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ہنگامی اور جنگی حالات کے باوجود روسی آبدوز کی وینزویلا کے ایک تیل بردار جہاز کے ساتھ موجودگی نے امریکہ کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے جس میں وہ اس جہاز کو قبضے میں لینا چاہتا تھا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکہ کی وزارتِ دفاع اور بحریہ کے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ روس نے ایک جوہری آبدوز وینزویلا کے تیل بردار جہاز مارینرا کی حفاظت کے لیے روانہ کی ہے۔ یہ جہاز وینزویلا کا خام تیل لے کر جا رہا تھا اور کیریبین سمندر میں، وینزویلا کے ساحل کے قریب، امریکہ کی جانب سے اسے روکنے اور پکڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں روسی آبدوز بوری یا یاسن کلاس کی ہے، جو اس جہاز کے قریب ظاہر ہوئی اور اب اسے اپنے آخری مقصد کی طرف جاتے ہوئے ساتھ لے جا رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس جہاز کی آخری منزل غالباً بھارت یا چین ہو سکتی ہے۔ امریکی ذرائع نے کہا کہ روسی آبدوز کی موجودگی نے عملی طور پر امریکہ کے لیے اس جہاز کو روکنے کی کوئی بھی بحری کارروائی ناممکن بنا دی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے مزید لکھا کہ کیریبین علاقے میں روسی آبدوز کی تعیناتی، نیکولس مادورو کی امریکی گرفتاری اور واشنگٹن کی حالیہ فوجی کارروائی کے بعد، وینزویلا کی حکومت کے لیے ماسکو کی واضح حمایت کی علامت ہے۔ اخبار کے مطابق یہ اقدام دو بڑی طاقتوں کے درمیان بالواسطہ ٹکراؤ کی ایک نئی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیل بردار جہاز مارینرا پاناما کے جھنڈے تلے چل رہا ہے اور وہ ایسی کمپنیوں سے تعلق رکھتا ہے جو وینزویلا کی قومی تیل کمپنی PDVSA سے وابستہ ہیں۔
گزشتہ مہینوں میں امریکی پابندیوں کے باعث یہ جہاز وینزویلا کے تیل کی برآمد کے لیے غیر رسمی راستے استعمال کر رہا تھا۔ امریکی حکام کا دعویٰ تھا کہ یہ جہاز پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اسے قبضے میں لیا جانا چاہیے، لیکن روسی آبدوز کی شناخت کے بعد یہ کارروائی روک دی گئی۔ روس کی وزارتِ دفاع نے ابھی تک باضابطہ طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی، تاہم روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ان خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روس ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف سہارا دیتا ہے۔ بین الاقوامی پانیوں میں روسی بحری جہازوں کی موجودگی مکمل طور پر قانونی ہے اور یہ سمندری قوانین کے مطابق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تیل بردار جہاز روسی آبدوز کی وینزویلا کے کے مطابق اس جہاز کے لیے ہے اور کہ روس
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔