وینزویلا اور امریکا کے درمیان تیل کی درآمد کیلئے ڈیل طے پاگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وینزویلا اور امریکا کے درمیان تیل کی درآمد کیلئے ڈیل طے پاگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 7 January, 2026 سب نیوز
وینزویلا اور امریکا کے درمیان دو ارب ڈالر کے تیل کی درآمد کیلئے ڈیل طے پاگئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وینزویلا کی عبوری حکومت 30 سے 50 ملین بیرل تیل امریکا کے حوالے کرے گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا یہ تیل مارکیٹ میں بیچیں گے۔ آمدنی پر ہمارا کنٹرول ہوگا۔ رقم امریکا اور وینزویلا کی بہبود پر خرچ ہوگی۔
امریکی صدر نے وزیرِ توانائی کو منصوبے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کردی۔ تیل بردار جہاز جلد وینزویلا روانہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرگئیں۔ برطانوی کروڈ آئل 1.
اس سے قبل امریکی صدر نے کہا کہ ہمیں ہتھیاروں کی تیاری میں مزید تیز لانی ہوگی، جہاز اور ہیلی کاپٹرز کی تیاری میں کئی سال لگتے ہیں، بھارت 68 اپاچی ہیلی کاپٹرز کے آرڈر دے رہا ہے، بھارت کو اپاچی ہیلی کاپٹرزکیلئے 5سال انتظارکرنا پڑا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہماری فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، دنیا کی کوئی فوج ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی، مادوروکے جانے کے بعد وینزویلا کے عوام خوش ہیں، صدر وینزویلا نکولس مادورو ایک ظالم شخص ہیں، صدر وینزویلا مادورو لاکھوں افراد کے قتل میں ملوث ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں نئے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کیلئے ٹینڈر جاری اسلام آباد میں نئے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کیلئے ٹینڈر جاری معرکہ حق کے بعد طیاروں کے آرڈرز، جلد آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ سکتے: خواجہ آصف سٹاک ایکسچینج میں ایک اور نیا ریکارڈ! ایک لاکھ 86 ہزار پوائنٹس کی تاریخی حد عبور ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد گھر میں گرنے کے باعث زخمی ہو گئے، اسپتال منتقل معرکہ حق کے بعد اتنے جہازوں کے آرڈر مل رہے ہیں کہ 6ماہ میں آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہنے کی پوزیشن میں... پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت خاتون مریضہ کی جان لے گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔