گوگل کے اے آئی مشوروں نے صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
برطانوی اخبار دی گارڈین کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گوگل کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی اوور ویوز، جو سرچ کے نتائج کے اوپر ظاہر ہوتے ہیں، بعض اوقات صحت سے متعلق غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کرسکتے ہیں، جس سے لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ خلاصے مددگار اور قابل اعتماد ہیں، مگر ماہرین نے کئی مثالوں کو خطرناک قرار دیا ہے۔ ایک کیس میں گوگل نے لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا، جو ماہرین کے مطابق بالکل غلط ہے اور مریض کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹ کے بارے میں فراہم کردہ معلومات بھی درست نہیں تھیں، جس سے شدید بیماری کے شکار افراد خود کو صحت مند سمجھ بیٹھ سکتے ہیں۔ خواتین کے کینسر ٹیسٹ، جیسے پیپ ٹیسٹ، کے بارے میں بھی سرچ نتائج میں غلط معلومات دی گئیں، جسے بعض نے اندام نہانی کے کینسر کے ٹیسٹ کے طور پر پیش کیا، حالانکہ یہ حقیقت نہیں۔
صحت کے ماہرین اور چیریٹیز نے خبردار کیا ہے کہ ایسی غلط معلومات لوگوں کو علاج سے دور رکھ سکتی ہیں یا جان لیوا نتائج پیدا کرسکتی ہیں۔ مریضوں کے حقوق کے فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل نے کہا کہ گوگل کے AI اوور ویوز آن لائن سرچز میں غلط معلومات پیش کرکے صارفین کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ میری کیوری چیریٹی کی اسٹیفنی پارکر نے بھی کہا کہ ’’لوگ پریشانی کے وقت انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں، اور اگر معلومات غلط ہوں تو یہ نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔‘‘
دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں کئی مثالیں پیش کیں جن میں گوگل کے AI اوور ویوز نے نفسیاتی بیماریوں اور کھانے کی عادات کے حوالے سے بھی خطرناک اور غلط مشورے دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلومات نہ صرف غلط ہیں بلکہ لوگ اس کی بنیاد پر ضروری مدد لینے سے بھی باز رہ سکتے ہیں۔
گوگل نے جواب میں کہا ہے کہ زیادہ تر AI اوورویوز درست اور مددگار ہیں اور کمپنی معیار بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سرچ نتائج میں موجود یہ غلط معلومات صحت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
View this post on Instagram.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غلط معلومات گوگل کے صحت کے کے لیے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔