رحیم یار خان: ایک کروڑ سر کی قیمت والے ڈاکو نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
رحیم یار خان پولیس کے کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے دوران ایک کروڑ روپے سر کی قیمت والے ڈاکو میرا لٹھانی نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ ترجمان پولیس کے مطابق پولیس کا گھیرا تنگ ہونے پر ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق بدھ کو رحیم یار خان پولیس نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ اور ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔آپریشن کے دوران ڈاکوؤں خطرناک ڈاکو میرا لٹھانی نے اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے ہیں، اشتہاری مجرم میرا لٹھانی کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث ڈاکوؤں فدا عرف راٹھور لٹھانی اور زلفی لٹھانی نے بھی خود کو پولیس کے سامنے سرنڈر کیا.
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کچے میں بڑے آپریشن کا اعلان کردیا ہے۔سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف بے رحمانہ کارروائی کریں گے، کچے میں ایک بڑا آپریشن شروع کرنے جارہے ہیں، ہتیھار ڈالنے والوں کو موقع دیا جائے گا۔ضیا الحسن لنجار نے مزید کہا کہ سندھ میں اب کہیں بھی حفاظتی کانوائے نہیں چل رہے، سندھ پولیس نے پنجاب کے ساتھ مل کر زبردست آپریشن کیا، اس آپریشن میں بھی پنجاب پولیس کی ضرورت پڑے گی، جس کے لیے آئی جی سندھ کو آئی جی پنجاب سے رابطے کا کہا ہے. مجھے پوری امید ہے کہ کچے کے ڈاکوؤں کو نیست و نابود کریں گے۔وزیرداخلہ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپریشن میں فوج کی ضرورت فی الحال نہیں، جو ڈاکو خود کو چیمپئن سمجھتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ساتھیوں سمیت ہتھیار رحیم یار خان پولیس کے کے خلاف
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔