کچے میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا ہے، ڈاکوؤں کو نیست و نابود کریں گے: وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقوں میں آج سے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کچے میں بڑا آپریشن شروع کرنے جا رہے ہیں، جو ڈاکو اپنے آپ کو چیمپئن سمجھتے ہیں ان کےخلاف سخت کارروائی ہوگی لیکن ہتھیار ڈالنے والوں کو موقع دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا آپریشن میں فی الحال فوج کی ضرورت نہیں ہے، سندھ پولیس کے ساتھ رینجرز بھی آپریشن میں حصہ لے گی، آپریشن میں پنجاب پولیس کی بھی ضرورت پڑے گی، ڈاکوؤں کو نیست و نابود کریں گے۔وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا سندھ میں اب کہیں بھی حفاظتی کانوائے نہیں چل رہے، کچے میں ڈاکوؤں کو نیست ونابود کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ کا کہنا
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔