کترینہ کیف اور وکی کوشل نے اپنے بیٹے کا نام مداحوں کے ساتھ شیئر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
بالی ووڈ کی مقبول جوڑی کترینہ کیف اور وکی کوشل نے اپنے بیٹے کا نام مداحوں کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ پیدائش کے دو ماہ بعد دونوں نے اعلان کیا کہ ننھے مہمان کا نام ویہان کوشل رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کترینہ کیف اور وکی کوشل کے ہاں بیٹے کی پیدائش
کترینہ اور وکی بالی ووڈ کے باوقار اور مضبوط جوڑوں میں شمار ہوتے ہیں، تاہم کترینہ نے ماں بننے کے بعد میڈیا کی چکاچوند سے کافی حد تک خود کو الگ رکھا۔
بچے کی پیدائش کے بعد بھی دونوں نے اپنی نجی زندگی کو ترجیح دی، جس کے باعث مداح طویل عرصے سے ننھے مہمان کے نام کے منتظر تھے۔
View this post on Instagram
A post shared by Katrina Kaif (@katrinakaif)
کترینہ اور وکی نے پہلی بار 23 ستمبر 2025 کو والدین بننے کی خوش خبری شیئر کی تھی۔ اس موقع پر انسٹاگرام پر ایک سادہ مگر جذباتی بلیک اینڈ وائٹ تصویر پوسٹ کی گئی، جس میں وکی کے ہاتھ کترینہ کے بیبی بمپ پر رکھے ہوئے نظر آ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’زندگی کے سب سے خوبصورت باب کا آغاز کرنے جا رہے ہیں‘، کترینہ کیف نے ’امید‘ سے ہونے کا اعلان کر دیا
تصویر کے ساتھ لکھا گیا کہ وہ اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت باب کا آغاز خوشی اور شکرگزاری کے جذبات کے ساتھ کر رہے ہیں۔
اگرچہ جوڑے نے شروع میں بچے کی جنس کے بارے میں علیحدہ اعلان نہیں کیا تھا، نومبر 2025 میں انہوں نے بیٹے کی پیدائش کی تصدیق کی۔
7 نومبر کو انسٹاگرام پر کترینہ اور وکی نے بتایا کہ ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی اور یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’میں نے غلطی کی‘رنبیر کپور سے تعلق ختم ہونے پر کترینہ کیف کا ردعمل
اب ویہان کوشل کے نام کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور شوبز شخصیات کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے، اور ننھے ویہان کو بالی ووڈ کا نیا اسٹار قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بالی ووڈ بیٹا کترینہ کیف وکی کوشل ویہان کوشل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ بیٹا کترینہ کیف وکی کوشل کترینہ کیف بالی ووڈ وکی کوشل اور وکی کے ساتھ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔