فلو اور وائرل انفیکشنز میں شدید اضافہ: احتیاط کی وارننگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
لاہور اور پنجاب کے کئی اضلاع میں سپر فلو، انفلوئنزا اور دیگر وائرل انفیکشنز کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی صحت کے نظام پر پہلے ہی موجود دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔حکامِ صحت کے مطابق گزشتہ ہفتے لاہور کے چھ اہم سرکاری اسپتالوں میں تقریباً 45,000 مریضوں کو فلو، سینے کے انفیکشن، نمونیا اور بخار جیسی شکایات کے ساتھ علاج فراہم کیا گیا، جو موسمی اور وائرل انفیکشنز کی تشویشناک پھیلاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔میو ہسپتال میں فلو، کھانسی، بخار اور سانس کی تکالیف کے 10,000 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے، جبکہ جناح ہسپتال میں 8,000 سے زائد مریضوں نے علاج کرایا۔ سروسز ہسپتال، لاہور جنرل ہسپتال اور بچوں کے ہسپتال میں ہر ایک میں تقریباً 7,500 مریض آئے، جبکہ سر گنگا رام اسپتال میں 6,000 سے زائد کیسز درج کیے گئے، جن میں سے کئی شدید سانس کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ او پی ڈی اور ایمرجنسی وارڈز میں مریضوں کا رش بڑھ گیا ہے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ موسمی تبدیلیوں کے دوران سپر فلو، انفلوئنزا اور دیگر وائرل انفیکشنز کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے ہے، اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور ڈاکٹروں سمیت پیرا میڈیکل اسٹاف بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وائرل انفیکشنز
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی