شیفالی شاہ نے اپنی پہلی شادی ٹوٹنے پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
بالی ووڈ کی باصلاحیت اداکارہ شیفالی شاہ نے اپنی ذاتی زندگی کے ایک نہایت حساس باب پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اپنی پہلی شادی سے باہر نکلنے کا فیصلہ انہوں نے اس وقت کیا جب انہیں محسوس ہوا کہ یہ رشتہ ان کی ذہنی اور جذباتی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
شیفالی شاہ حال ہی میں نیٹ فلکس سیریز دہلی کرائم سیزن 3 میں نظر آئی تھیں۔ شیفالی کی پہلی شادی اداکار ہرش چھایا سے ہوئی تھی، تاہم سماجی دباؤ اور روایتی توقعات کے باوجود انہوں نے خوشی اور خودی کو ترجیح دیتے ہوئے اس رشتے کو ختم کرنے کا مشکل فیصلہ کیا۔
بعد ازاں سال 2000 میں انہوں نے پروڈیوسر وِپُل شاہ سے سادگی سے شادی کی، جن سے ان کے دو بیٹے ہیں۔
زوم کے یوٹیوب چینل پر نشر ہونے والی اسپاٹ لائٹ سیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے شیفالی شاہ نے بتایا کہ انہیں اپنی اصل قدر کا احساس اس وقت ہوا جب زندگی ایک نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق انہیں کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ایک عورت اپنے آپ میں مکمل ہوسکتی ہے اور اسے اپنی پہچان یا اہمیت کے لیے کسی رشتے کا سہارا ضروری نہیں۔
شیفالی نے کہا کہ اگر زندگی میں اچھے رشتے ہوں تو یہ ایک خوبصورت بات ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو اس سے کسی انسان کی قدر کم نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب انہیں شدت سے احساس ہوا کہ وہ مزید اس صورتحال میں نہیں رہ سکتیں کیونکہ یہ انہیں اندر سے توڑ رہی تھی۔
اداکارہ نے اپنی پہلی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک قریبی دوست نے ان سے سوال کیا تھا کہ اگر دوبارہ کبھی محبت نہ ملی تو کیا وہ تنہا رہنے کا خطرہ مول لیں گی یا اسی رشتے میں رہیں گی۔ اس پر شیفالی کا جواب تھا کہ وہ پھر بھی تنہا رہنے کو ترجیح دیں گی، کیونکہ وہ ایسی زندگی نہیں گزار سکتیں جہاں نہ خوشی ہو، نہ اعتماد اور نہ ہی قدر۔
انہوں نے کہا کہ اسی سوچ نے انہیں پہلی بار والدین کے گھر سے نکل کر اکیلے رہنے کا حوصلہ دیا۔ عمر کے ساتھ انسان دوسروں کو خوش کرنے کی دوڑ سے تھک جاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ شعور ملتا ہے کہ ہر کسی کو خوش رکھنا ممکن نہیں۔ اسی احساس کو بیان کرتے ہوئے شیفالی شاہ نے کہا، ’’میں پیزا نہیں ہوں کہ سب کو خوش کر سکوں۔‘‘
شیفالی شاہ کو موجودہ دور کی مضبوط ترین اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے، جنہوں نے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر اپنی شاندار اداکاری کے ذریعے ایک نئی نسل کے مداح بھی بنا لیے ہیں۔ ان کا یہ بے باک اعتراف سوشل میڈیا پر خاصا سراہا جا رہا ہے اور کئی خواتین کے لیے حوصلے کا باعث بن رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔