Juraat:
2026-07-24@08:00:44 GMT

خواہش

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

خواہش

بے نقاب /ایم آر ملک

یہ سال اگر واقعی کسی ایک شناخت، کسی ایک نعرے اور کسی ایک اجتماعی خواہش کا ترجمان ہو سکتا ہے تو بلا مبالغہ اسے بابوں سے نجات کا سال کہا جانا چاہیے۔ یہاں بابوں سے مراد وہ بزرگ نہیں جو عمر کے ساتھ دانائی، شائستگی اور تحمل لے آتے ہیں، بلکہ وہ مخصوص طبقہ ہے جو عمر کو تجربے کا نہیں، اختیار کا ہتھیار بنا لیتا ہے۔ وہ لوگ جو دہائیوں سے اداروں پر قابض ہیں، جن کے لیے کرسی خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ طاقت کا ستون بن چکی ہے، اور جو ہر نئی سوچ، ہر تازہ آواز اور ہر بدلتے تقاضے کو”ہم نے بھی جوانی میں ایسے خواب دیکھے تھے” کہہ کر دفن کر دیتے ہیں۔ یہ بابا کوئی فرد نہیں، ایک ذہنیت ہے، ایک رویہ ہے، ایک ایسا وائرس ہے جو اداروں کے اندر خاموشی سے پھیلتا ہے اور پھر پورے نظام کو مفلوج کر دیتا ہے۔سہیل وڑائچ نے ایک کالم لکھ کر اپنے آپ کو اسی صف میں شامل کیا ہے کہ صحافت کے شعبے پر بھی ایسے بابے قابض ہیں ۔
اصل مسئلہ عمر رسیدہ ہونا نہیں، اصل مسئلہ عہد رسیدہ ہونا ہے۔ عمر اگر سوچ کو وسعت دے تو نعمت ہے، لیکن جب عمر سوچ کو جامد کر دے تو وہی عمر بوجھ بن جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ستر، اسی اور نوّے برس کے لوگ اداروں میں موجود ہیں، مگر وہاں وہ رہنمائی کرتے ہیں، راستہ دیتے ہیں، نئی قیادت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جو کرسی پر بیٹھ جائے، وہ کرسی کو ہی اپنا کفن بنا لیتا ہے۔ یہاں ریٹائرمنٹ عزت کا مرحلہ نہیں بلکہ خوف کی علامت ہے، اس لیے بابا ہر ممکن طریقے سے رخصت کو مؤخر کرتا ہے۔ کبھی قانون میں سقم ڈھونڈ لیا جاتا ہے، کبھی توسیع کی درخواست دے دی جاتی ہے، کبھی مشیر بن کر واپسی ہوتی ہے اور کبھی کسی کمیٹی، ٹاسک فورس یا بورڈ کے نام پر دوبارہ قبضہ جما لیا جاتا ہے۔کبھی وہ سمجھتا ہے کہ صحافت اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
بابا ہر میٹنگ میں سب سے پہلے بولتا ہے، سب سے آخر میں مانتا ہے اور اکثر مانتا ہی نہیں۔ اس کا سب سے پسندیدہ جملہ یہی ہوتا ہے کہ ”یہ یہاں نہیں چل سکتا”۔ یہ جملہ دراصل کسی دلیل کا جواب نہیں بلکہ خوف کا اظہار ہوتا ہے۔ خوف اس بات کا کہ اگر یہ نیا طریقہ چل گیا تو بابا غیر متعلق ہو جائے گا۔ اگر یہ نوجوان کامیاب ہو گیا تو بابا کی اجارہ داری ٹوٹ جائے گی۔ اگر یہ سسٹم ڈیجیٹل ہو گیا تو بابا کی فائلیں بولنا بند کر دیں گی۔ اس لیے بابا کمپیوٹر سے خائف، ای میل سے بدظن اور سوشل میڈیا سے نالاں رہتا ہے۔ اس کے نزدیک ہر نئی چیز سازش ہوتی ہے اور ہر نوجوان وقتی جوش کا شکار۔
نوجوان بابا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ نوجوان سوال کرتا ہے۔ وہ”کیوں” پوچھ لیتا ہے، اور بابا کو”کیوں”سے ہمیشہ الرجی رہی ہے۔ بابا چاہتا ہے کہ نوجوان خاموش رہے، سر جھکا کر سلام کرے، فائل اٹھائے، حکم مانے اور پچیس سال بعد خود بابا بن جائے۔ یہی وہ تسلسل ہے جس نے ہمارے اداروں کو آگے بڑھنے کے بجائے ایک ہی دائرے میں گھماتے رکھا ہے۔ یہاں تربیت کے نام پر اطاعت سکھائی جاتی ہے اور تجربے کے نام پر جمود منتقل کیا جاتا ہے۔اداروں پر قابض یہ بابا سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ نہ یہ خود چلتے ہیں، نہ کسی اور کو چلنے دیتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی مہارت یہ ہے کہ وہ کام کو کام بننے ہی نہیں دیتے۔ فائل روکی جاتی ہے، سمری لٹکائی جاتی ہے، فیصلے مؤخر کیے جاتے ہیں اور ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ پچھلے پندرہ یا بیس برس میں کون سی اصلاح کی، کون سا نظام بہتر بنایا، کون سا نوجوان تیار کیا تو جواب ملتا ہے کہ ”سسٹم ہی خراب ہے”۔ گویا سسٹم کسی اور سیارے سے آیا تھا اور بابا صرف اس کا مظلوم شکار ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی بابا اس سسٹم کا سب سے بڑا معمار بھی ہے اور سب سے مضبوط محافظ بھی۔
تعلیم میں بابا نصاب سے ایسے چمٹا ہوا ہے جیسے نصاب اس کی ذاتی جاگیر ہو۔ وہ آج بھی رٹے کو علم اور نمبر کو ذہانت سمجھتا ہے۔ سوال کرنے والا طالب علم اسے گستاخ لگتا ہے اور تحقیق کرنے والا طالب علم خطرناک۔ صحافت میں بابا آج بھی خبر کو”اوپر سے فون آیا ہے” کے ترازو میں تولتا ہے۔ اس کے نزدیک خبر وہی ہے جو طاقتور کو خوش کرے اور صحافی وہی ہے جو خاموشی سے لائن پر چلتا رہے۔ بیوروکریسی میں بابا فائل کا دیوتا بن چکا ہے، جہاں فائل کی رفتار کام کی رفتار سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔یہ سب بابا ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ واقعی انہوں نے بہت کچھ دیکھا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ انہوں نے دیکھ کر بھی کچھ سیکھا نہیں۔ انہوں نے تبدیلی کو آتے دیکھا اور دروازہ بند کر لیا، انہوں نے دنیا کو آگے بڑھتے دیکھا اور خود وہیں کھڑے رہے جہاں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ادارے وقت سے پیچھے رہ گئے اور قوم تجربے کے نام پر جمود کا شکار ہو گئی۔
یہ بات بار بار دہرانا ضروری ہے کہ بابوں سے نجات کا مطلب بزرگوں کی بے توقیری نہیں۔ یہ تجربے کی توہین نہیں، یہ عمر کی نفی نہیں۔
نجات کا مطلب یہ ہے کہ تجربہ رہنمائی کرے، قابض نہ بنے؛ عمر مشورہ دے، دیوار نہ بنے؛ اور ادارے شخصیات کے بجائے اصولوں کے
تحت چلیں۔ جو بابا واقعی دانا ہے، وہ خود راستہ دے گا، اور جو ضدی ہے، اسے وقت خود ہٹا دے گا۔یہ سال اگر واقعی نیا سال بننا ہے تو اسے
کرسیوں کی میعاد طے کرنا ہوگی۔ اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ کوئی بھی عہدہ دائمی نہیں، کوئی بھی منصب موروثی نہیں اور کوئی بھی ادارہ کسی ایک فرد
کا محتاج نہیں۔ نوجوان کو شک کی نظر سے نہیں بلکہ اعتماد کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ ریٹائرمنٹ کو ذلت نہیں بلکہ اعزاز کا درجہ دینا ہوگا، تاکہ تجربہ
عزت کے ساتھ الگ ہو اور نئی قیادت ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھے۔اگر ہم نے اس سال بھی وہی پرانے بابا، وہی گھسے پٹے چہرے اور
وہی فرسودہ سوچ کو نجات دہندہ سمجھ لیا، اگر ادارے پھر انہی کے حوالے کیے اور نئی نسل کو پھر”بعد میں”کہہ کر ٹال دیا تو یاد رکھیے، تاریخ ہمیں
معاف نہیں کرے گی۔ آنے والی نسل ہمیں بھی اسی قطار میں کھڑا کر دے گی جسے آج ہم طنزاً بابا کہتے ہیں۔یہ وقت بابوں سے نجات کا ہے،
یہ وقت اداروں کی واپسی کا ہے، یہ وقت نئی سوچ، نئی قیادت اور نئے اعتماد کا ہے۔ اگر یہ سال بھی نہ بدلا تو پھر سال تو بدلتے رہیں گے،
کیلنڈر کے ورق پلٹتے رہیں گے، مگر ہم وہیں کھڑے رہیں گے، باباؤں کی لمبی قطار میں، کسی نئے کالم کا موضوع بننے کے لیے تیار۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کے نام پر انہوں نے ہیں بلکہ یہ ہے کہ نجات کا جاتی ہے جاتا ہے کسی ایک اگر یہ ہے اور

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف