Juraat:
2026-07-24@05:26:02 GMT

خواہش

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

خواہش

بے نقاب /ایم آر ملک

یہ سال اگر واقعی کسی ایک شناخت، کسی ایک نعرے اور کسی ایک اجتماعی خواہش کا ترجمان ہو سکتا ہے تو بلا مبالغہ اسے بابوں سے نجات کا سال کہا جانا چاہیے۔ یہاں بابوں سے مراد وہ بزرگ نہیں جو عمر کے ساتھ دانائی، شائستگی اور تحمل لے آتے ہیں، بلکہ وہ مخصوص طبقہ ہے جو عمر کو تجربے کا نہیں، اختیار کا ہتھیار بنا لیتا ہے۔ وہ لوگ جو دہائیوں سے اداروں پر قابض ہیں، جن کے لیے کرسی خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ طاقت کا ستون بن چکی ہے، اور جو ہر نئی سوچ، ہر تازہ آواز اور ہر بدلتے تقاضے کو”ہم نے بھی جوانی میں ایسے خواب دیکھے تھے” کہہ کر دفن کر دیتے ہیں۔ یہ بابا کوئی فرد نہیں، ایک ذہنیت ہے، ایک رویہ ہے، ایک ایسا وائرس ہے جو اداروں کے اندر خاموشی سے پھیلتا ہے اور پھر پورے نظام کو مفلوج کر دیتا ہے۔سہیل وڑائچ نے ایک کالم لکھ کر اپنے آپ کو اسی صف میں شامل کیا ہے کہ صحافت کے شعبے پر بھی ایسے بابے قابض ہیں ۔
اصل مسئلہ عمر رسیدہ ہونا نہیں، اصل مسئلہ عہد رسیدہ ہونا ہے۔ عمر اگر سوچ کو وسعت دے تو نعمت ہے، لیکن جب عمر سوچ کو جامد کر دے تو وہی عمر بوجھ بن جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ستر، اسی اور نوّے برس کے لوگ اداروں میں موجود ہیں، مگر وہاں وہ رہنمائی کرتے ہیں، راستہ دیتے ہیں، نئی قیادت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جو کرسی پر بیٹھ جائے، وہ کرسی کو ہی اپنا کفن بنا لیتا ہے۔ یہاں ریٹائرمنٹ عزت کا مرحلہ نہیں بلکہ خوف کی علامت ہے، اس لیے بابا ہر ممکن طریقے سے رخصت کو مؤخر کرتا ہے۔ کبھی قانون میں سقم ڈھونڈ لیا جاتا ہے، کبھی توسیع کی درخواست دے دی جاتی ہے، کبھی مشیر بن کر واپسی ہوتی ہے اور کبھی کسی کمیٹی، ٹاسک فورس یا بورڈ کے نام پر دوبارہ قبضہ جما لیا جاتا ہے۔کبھی وہ سمجھتا ہے کہ صحافت اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
بابا ہر میٹنگ میں سب سے پہلے بولتا ہے، سب سے آخر میں مانتا ہے اور اکثر مانتا ہی نہیں۔ اس کا سب سے پسندیدہ جملہ یہی ہوتا ہے کہ ”یہ یہاں نہیں چل سکتا”۔ یہ جملہ دراصل کسی دلیل کا جواب نہیں بلکہ خوف کا اظہار ہوتا ہے۔ خوف اس بات کا کہ اگر یہ نیا طریقہ چل گیا تو بابا غیر متعلق ہو جائے گا۔ اگر یہ نوجوان کامیاب ہو گیا تو بابا کی اجارہ داری ٹوٹ جائے گی۔ اگر یہ سسٹم ڈیجیٹل ہو گیا تو بابا کی فائلیں بولنا بند کر دیں گی۔ اس لیے بابا کمپیوٹر سے خائف، ای میل سے بدظن اور سوشل میڈیا سے نالاں رہتا ہے۔ اس کے نزدیک ہر نئی چیز سازش ہوتی ہے اور ہر نوجوان وقتی جوش کا شکار۔
نوجوان بابا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ نوجوان سوال کرتا ہے۔ وہ”کیوں” پوچھ لیتا ہے، اور بابا کو”کیوں”سے ہمیشہ الرجی رہی ہے۔ بابا چاہتا ہے کہ نوجوان خاموش رہے، سر جھکا کر سلام کرے، فائل اٹھائے، حکم مانے اور پچیس سال بعد خود بابا بن جائے۔ یہی وہ تسلسل ہے جس نے ہمارے اداروں کو آگے بڑھنے کے بجائے ایک ہی دائرے میں گھماتے رکھا ہے۔ یہاں تربیت کے نام پر اطاعت سکھائی جاتی ہے اور تجربے کے نام پر جمود منتقل کیا جاتا ہے۔اداروں پر قابض یہ بابا سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ نہ یہ خود چلتے ہیں، نہ کسی اور کو چلنے دیتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی مہارت یہ ہے کہ وہ کام کو کام بننے ہی نہیں دیتے۔ فائل روکی جاتی ہے، سمری لٹکائی جاتی ہے، فیصلے مؤخر کیے جاتے ہیں اور ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ پچھلے پندرہ یا بیس برس میں کون سی اصلاح کی، کون سا نظام بہتر بنایا، کون سا نوجوان تیار کیا تو جواب ملتا ہے کہ ”سسٹم ہی خراب ہے”۔ گویا سسٹم کسی اور سیارے سے آیا تھا اور بابا صرف اس کا مظلوم شکار ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی بابا اس سسٹم کا سب سے بڑا معمار بھی ہے اور سب سے مضبوط محافظ بھی۔
تعلیم میں بابا نصاب سے ایسے چمٹا ہوا ہے جیسے نصاب اس کی ذاتی جاگیر ہو۔ وہ آج بھی رٹے کو علم اور نمبر کو ذہانت سمجھتا ہے۔ سوال کرنے والا طالب علم اسے گستاخ لگتا ہے اور تحقیق کرنے والا طالب علم خطرناک۔ صحافت میں بابا آج بھی خبر کو”اوپر سے فون آیا ہے” کے ترازو میں تولتا ہے۔ اس کے نزدیک خبر وہی ہے جو طاقتور کو خوش کرے اور صحافی وہی ہے جو خاموشی سے لائن پر چلتا رہے۔ بیوروکریسی میں بابا فائل کا دیوتا بن چکا ہے، جہاں فائل کی رفتار کام کی رفتار سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔یہ سب بابا ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ واقعی انہوں نے بہت کچھ دیکھا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ انہوں نے دیکھ کر بھی کچھ سیکھا نہیں۔ انہوں نے تبدیلی کو آتے دیکھا اور دروازہ بند کر لیا، انہوں نے دنیا کو آگے بڑھتے دیکھا اور خود وہیں کھڑے رہے جہاں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ادارے وقت سے پیچھے رہ گئے اور قوم تجربے کے نام پر جمود کا شکار ہو گئی۔
یہ بات بار بار دہرانا ضروری ہے کہ بابوں سے نجات کا مطلب بزرگوں کی بے توقیری نہیں۔ یہ تجربے کی توہین نہیں، یہ عمر کی نفی نہیں۔
نجات کا مطلب یہ ہے کہ تجربہ رہنمائی کرے، قابض نہ بنے؛ عمر مشورہ دے، دیوار نہ بنے؛ اور ادارے شخصیات کے بجائے اصولوں کے
تحت چلیں۔ جو بابا واقعی دانا ہے، وہ خود راستہ دے گا، اور جو ضدی ہے، اسے وقت خود ہٹا دے گا۔یہ سال اگر واقعی نیا سال بننا ہے تو اسے
کرسیوں کی میعاد طے کرنا ہوگی۔ اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ کوئی بھی عہدہ دائمی نہیں، کوئی بھی منصب موروثی نہیں اور کوئی بھی ادارہ کسی ایک فرد
کا محتاج نہیں۔ نوجوان کو شک کی نظر سے نہیں بلکہ اعتماد کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ ریٹائرمنٹ کو ذلت نہیں بلکہ اعزاز کا درجہ دینا ہوگا، تاکہ تجربہ
عزت کے ساتھ الگ ہو اور نئی قیادت ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھے۔اگر ہم نے اس سال بھی وہی پرانے بابا، وہی گھسے پٹے چہرے اور
وہی فرسودہ سوچ کو نجات دہندہ سمجھ لیا، اگر ادارے پھر انہی کے حوالے کیے اور نئی نسل کو پھر”بعد میں”کہہ کر ٹال دیا تو یاد رکھیے، تاریخ ہمیں
معاف نہیں کرے گی۔ آنے والی نسل ہمیں بھی اسی قطار میں کھڑا کر دے گی جسے آج ہم طنزاً بابا کہتے ہیں۔یہ وقت بابوں سے نجات کا ہے،
یہ وقت اداروں کی واپسی کا ہے، یہ وقت نئی سوچ، نئی قیادت اور نئے اعتماد کا ہے۔ اگر یہ سال بھی نہ بدلا تو پھر سال تو بدلتے رہیں گے،
کیلنڈر کے ورق پلٹتے رہیں گے، مگر ہم وہیں کھڑے رہیں گے، باباؤں کی لمبی قطار میں، کسی نئے کالم کا موضوع بننے کے لیے تیار۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کے نام پر انہوں نے ہیں بلکہ یہ ہے کہ نجات کا جاتی ہے جاتا ہے کسی ایک اگر یہ ہے اور

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف