رام لیلا میدان کے قریب انہدامی کارروائی پر اسلامک سینٹر آف انڈیا کا اظہارِ تشویش
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
مولانا صوفیان نظامی نے انہدامی کارروائی کے وقت اور طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب بھی سڑکوں کی توسیع یا تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی جاتی ہے، بلڈوزر زیادہ تر مساجد اور درگاہوں کے آس پاس ہی نظر آتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں قائم اسلامک سینٹر آف انڈیا نے دہلی کے رام لیلا میدان ترکمان گیٹ علاقے میں واقع فیضِ الٰہی مسجد کے قریب بلدیاتی انہدامی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر انتظامیہ کی جانب سے بار بار مسلم اکثریتی علاقوں، مساجد اور درگاہوں کے اطراف ہی کارروائیاں کیوں کی جاتی ہیں۔ میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کی جانب سے کی گئی اس کارروائی میں ایک مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ کمیونٹی ہال، ڈسپنسری اور بعض تجارتی ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا، جو فیضِ الٰہی مسجد کے قریب اور رام لیلا میدان کی زمین پر قائم تھے۔ اس سلسلے میں جاری ویڈیو بیان میں اسلامک سینٹر آف انڈیا کے ترجمان مولانا صوفیان نظامی نے انہدامی کارروائی کے وقت اور طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب بھی سڑکوں کی توسیع یا تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی جاتی ہے، بلڈوزر زیادہ تر مساجد اور درگاہوں کے آس پاس ہی نظر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آیا یہ محض اتفاق ہے یا کسی منظم سازش کا حصہ، اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیئے۔ پتھراؤ کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا صوفیان نظامی نے کہا کہ اگر انتظامیہ کارروائی سے قبل مقامی افراد کو اعتماد میں لیتی اور ان سے بات چیت کرتی تو صورتحال اس حد تک نہ بگڑتی۔ انہوں نے کہا کہ عوام عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور عدالتوں پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں، تاہم بغیر مکالمے کے کی جانے والی کارروائیاں تصادم کو جنم دیتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پتھراؤ کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد اصل مجرموں کی نشاندہی ضروری ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مولانا صوفیان نظامی نے خبردار کیا کہ بلڈوزر یا پتھراؤ کی آڑ میں کسی بے گناہ کے خلاف کارروائی سنگین ناانصافی ہوگی۔ اسلامک سینٹر آف انڈیا نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ حساس معاملات میں آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے تحمل، گفت و شنید اور باہمی اعتماد کے ساتھ فیصلے کئے جائیں تاکہ سماجی ہم آہنگی برقرار رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامک سینٹر آف انڈیا انہدامی کارروائی کہا کہ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔