مولانا صوفیان نظامی نے انہدامی کارروائی کے وقت اور طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب بھی سڑکوں کی توسیع یا تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی جاتی ہے، بلڈوزر زیادہ تر مساجد اور درگاہوں کے آس پاس ہی نظر آتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں قائم اسلامک سینٹر آف انڈیا نے دہلی کے رام لیلا میدان ترکمان گیٹ علاقے میں واقع فیضِ الٰہی مسجد کے قریب بلدیاتی انہدامی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر انتظامیہ کی جانب سے بار بار مسلم اکثریتی علاقوں، مساجد اور درگاہوں کے اطراف ہی کارروائیاں کیوں کی جاتی ہیں۔ میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کی جانب سے کی گئی اس کارروائی میں ایک مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ کمیونٹی ہال، ڈسپنسری اور بعض تجارتی ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا، جو فیضِ الٰہی مسجد کے قریب اور رام لیلا میدان کی زمین پر قائم تھے۔ اس سلسلے میں جاری ویڈیو بیان میں اسلامک سینٹر آف انڈیا کے ترجمان مولانا صوفیان نظامی نے انہدامی کارروائی کے وقت اور طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب بھی سڑکوں کی توسیع یا تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی جاتی ہے، بلڈوزر زیادہ تر مساجد اور درگاہوں کے آس پاس ہی نظر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آیا یہ محض اتفاق ہے یا کسی منظم سازش کا حصہ، اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیئے۔ پتھراؤ کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا صوفیان نظامی نے کہا کہ اگر انتظامیہ کارروائی سے قبل مقامی افراد کو اعتماد میں لیتی اور ان سے بات چیت کرتی تو صورتحال اس حد تک نہ بگڑتی۔ انہوں نے کہا کہ عوام عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور عدالتوں پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں، تاہم بغیر مکالمے کے کی جانے والی کارروائیاں تصادم کو جنم دیتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پتھراؤ کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد اصل مجرموں کی نشاندہی ضروری ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مولانا صوفیان نظامی نے خبردار کیا کہ بلڈوزر یا پتھراؤ کی آڑ میں کسی بے گناہ کے خلاف کارروائی سنگین ناانصافی ہوگی۔ اسلامک سینٹر آف انڈیا نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ حساس معاملات میں آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے تحمل، گفت و شنید اور باہمی اعتماد کے ساتھ فیصلے کئے جائیں تاکہ سماجی ہم آہنگی برقرار رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامک سینٹر آف انڈیا انہدامی کارروائی کہا کہ

پڑھیں:

سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک

اسلام آباد: سیکیورٹی فورسز نے مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کرلیا. گرفتار شدگان میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہے. سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں بروقت  کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد وں کو جہنم واصل کر دیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا. گرفتار دہشت گردوں میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کاروائی میں  دہشت گردوں کی متعدد کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں. کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا۔آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے. حالیہ دنوں میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں  دہشتگردوں کی مذموم کاروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ