پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں دوسرے روز بھی شدید دھند، پروازیں متاثر
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پشاور شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں حدِ نگاہ صفر تک ریکارڈ کی گئی جبکہ درجہ حرارت 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں آج دوسرے روز بھی شدید دھند چھائی رہی، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ پشاور شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں حدِ نگاہ صفر تک ریکارڈ کی گئی جبکہ درجہ حرارت 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ شیرگڑھ کے علاقوں جلالہ، ہاتھیان اور لوندخوڑ سمیت مضافات گزشتہ دو دنوں سے شدید دھند اور سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسی طرح رستم اور گردونواح میں بھی دوسرے روز دھند کا راج رہا۔
پشاور کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، صوابی اور دیگر میدانی علاقوں میں بھی شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ متاثر رہی، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کی روانی سست ہوگئی۔ دھند کے باعث پشاور ایئرپورٹ پر حدِ نگاہ 50 میٹر تک محدود ہوگئی، جس کے نتیجے میں متعدد ملکی و غیر ملکی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں یا متبادل ایئرپورٹس پر منتقل کر دی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔