کانفرنس کے نمایاں شرکاء میں مفتی محمد یوسف قصوری، علامہ ڈاکٹر شبیر حسین میثمی، تشنا پٹیل، ڈاکٹر جمیل راٹھور، طوبی کہروی، سردار رمیش سنگھ، بشپ فریڈرک جان (بشپ آف کراچی)، مفتی ابوہریرہ محی الدین، اور ڈاکٹر شام سندر ایڈوانی شامل تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی کھیل داس کوہستانی نے تمام شرکا کی فعال شمولیت اور بامعنی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت کراچی میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کراچی کے ہولی ٹرنیٹی کیتھیڈرل چرچ میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مذاہب کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کے لیے حکمت عملی کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس نے پاکستان کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے مذہبی ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے تمام بڑے مذاہب سے تعلق رکھنے والے علما اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں مسلم، عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی اور بہائی برادریوں کے مذہبی رہنماں کے علاوہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، سفیروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ نمایاں شرکاء میں مفتی محمد یوسف قصوری، علامہ ڈاکٹر شبیر حسین میثمی، تشنا پٹیل، ڈاکٹر جمیل راٹھور، طوبی کہروی، سردار رمیش سنگھ، بشپ فریڈرک جان (بشپ آف کراچی)، مفتی ابوہریرہ محی الدین، اور ڈاکٹر شام سندر ایڈوانی شامل تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی کھیل داس کوہستانی نے تمام شرکا کی فعال شمولیت اور بامعنی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کو درپیش چیلنجز کا حل ہم آہنگی اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل مذاہب کے درمیان اتحاد اور افہام و تفہیم میں مضمر ہے۔ وزیر مملکت  نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس سال اسمبلی میں مذہبی ہم آہنگی کی پالیسی متعارف کرائی گئی اور اس بات پر زور دیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق تعلیمات کو ابتدائی عمر سے ہی رواداری کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیئے۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے اور نفرت کی داستانوں کا مقابلہ کرنے میں میڈیا کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے لیے ایک دوسرے کے مذاہب کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے امن، رواداری اور بین المذاہب بقائے باہمی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب کے لوگوں پر مشتمل ایک وطن ہے اور کوئی بھی مذہب نفرت یا دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا ہے۔ کانفرنس ایک پرامن اور جامع پاکستان کے لیے بین المذاہب مکالمے اور تعاون کو مضبوط بنانے کے اجتماعی عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی