ایس یو سی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے حالیہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال سمیت بین المذاہب ہم آہنگی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی خطاب کیا۔ پروگرام میں وفاقی وزیر محترم کھیل داس و دیگر سیاسی، سماجی اور تمام مکاتب فکر کے معزز علماء کرام دیگر تمام مذاہب نے بھرپور شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل و چیئرمین زہرا (س) اکیڈمی پاکستان حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کراچی میں منعقدہ بین المذاہب ہم آہنگی "مذہبی رواداری اور باہمی افہام و تفہیم کے لیے حکمت عملی" کے عنوان پر وفاقی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اسلام آباد کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں خصوصی شرکت کی۔   ایس یو سی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے حالیہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال سمیت بین المذاہب ہم آہنگی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی خطاب کیا۔ پروگرام میں وفاقی وزیر محترم کھیل داس و دیگر سیاسی، سماجی اور تمام مکاتب فکر کے معزز علماء کرام دیگر تمام مذاہب نے بھرپور شرکت کی۔   پروگرام کا آغاز تلاوت کلام اللہ اور قومی ترانے سے ہوا، سیکرٹری جنرل سے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام سمیت سیاسی و سماجی معزز شخصیات نے ملاقاتیں بھی کیں.

اس موقع پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کراچی ڈویژن کے رفقاء علماء کرام بھی موجود تھے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بین المذاہب ہم آہنگی سیکرٹری جنرل علماء کرام

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے