سہیل آفریدی نے جامعات میں اردو تقریر لازمی قرار دینے پر زور دے دیا، وڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بینظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کے کانووکیشن کے موقع پر وائس چانسلر کی انگریزی میں تقریر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ تمام سرکاری تقریبات میں اردو میں خطاب کیا جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور جامعات سمیت تمام سرکاری تقریبات میں اردو کو ترجیح دی جانی چاہیے، اگر آئندہ کسی تقریب میں انگریزی میں تقریر کی گئی تو اس پر سخت ردعمل ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی بات کی اور بتایا کہ صوبے میں 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ہیں، صرف کارروائیوں سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، کسی بھی آپریشن سے قبل قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ عوام کی حمایت اور تعاون حاصل کیا جا سکے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ صوبے کے عوام نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی پاکستان کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، حکومت صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائے گی اور امن قائم رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔