حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ریڈ کراس کے تعاون سے غزہ شہر کے مشرقی علاقے زیتون میں آخری باقی اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی تلاش دوبارہ شروع کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تلاش اسرائیلی پولیس کے ماسٹر سارجنٹ ران گوِلی کی لاش کے لیے کی جا رہی ہے، جو حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران کِبٹز الومیم کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔

فلسطینی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس اہلکار کی لاش کو حماس کے جنگجو اپنے ہمراہ غزہ لے آئے تھے اور لاش کو مشرقی علاقے میں رکھا گیا تھا۔

بعد ازاں اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ کا مشرقی علاقہ مکمل طور پر کھنڈر بن گیا جس کے باعث لاش کہیں گم ہوگئی اور تلاش کی پہلی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔

لاش کی تلاش کے دوبارہ آغاز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں حماس کے مسلح افراد، ریڈ کراس کی گاڑیاں اور بلڈوزرز کو علاقے میں کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم اس کارروائی میں فلسطینی اسلامی جہاد (PIJ) کے عسکری ونگ سرایا القدس کی شمولیت نظر نہیں آ رہی حالانکہ ابتدا میں لاش انہی کے قبضے میں تھی۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت واضح طور پر اعلان کر چکی ہے کہ جب تک ران گوِلی کی لاش واپس نہیں کی جاتی، غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے پر پیش رفت نہیں کی جائے گی۔

یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر بھی ان کی لاش کی واپسی کے لیے مظاہرے کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

حماس نے اسرائیل پر اپنے 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملے میں 251 اسرائیلی فوجیوں اور باشندوں کو یرغمال بناکر غزہ لے آئے تھے۔

جن میں سے تقریباً تمام ہی زندہ یرغمالیوں کو واپس اسرائیل بھیج دیا گیا جس کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی نصیب ہوئی۔

علاوہ ازیں حماس کے پاس غزہ میں جتنے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں موجود تھیں انھیں بھی واپس کردیا گیا۔ بس ایک لاش باقی ہے جس کی تلاش جاری ہے۔

اس کے بدلے میں اسرائیل نے بھی حراست میں بہیمانہ تشدد سے جاں بحق ہونے والے فلسطینی قیدیوں کی لاشیں واپس کی ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حماس کے کی لاش لاش کی

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم