قومی مصالحتی کمیٹی اعلامیہ: مفاد پرست سیاست کا ترجمان، اکبر ایس بابر
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے بانی راہنما اکبر ایس بابر کا قومی مصالحتی کمیٹی کے اعلامیہ پر ردعمل
قومی مصالحتی کمیٹی کانفرنس کا اعلامیہ پاکستان کی مفاد پرست سیاست کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔
اعلامیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست دان قانون کی نظر میں مجرم ہی کیوں نہ ہوں وہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
اعلامیہ سے ظاہر ہے کہ قانون اور جیل صرف عام شہریوں کے لئے ہے۔
بااثر سیاست دان چاہے ملک دشمن سیاست کریں، ملک کو بدنام کریں، ملکی وسائل لوٹیں، معاشرے میں انتشار پیدا کریں، اداروں پر حملے کریں، دہشت گردوں کی سہولت کاری کریں اور ملک کی معیشت کو تباہ کریں، وہ احتساب سے بالاتر ہیں۔
ایسی ہی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کا وقت ہے نہ کہ دوبارہ مسلط کرنے کا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔