پختونخوا نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، وہیں دہشتگردوں کیخلاف اقدامات پر سیاست ہو رہی ہے، وفاقی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پختونخوا نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، افسوس ہے کہ وہیں دہشتگردوں کیخلاف اقدامات پر سیاست ہو رہی ہے۔
اپنے بیان میں طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کی مخالفت دراصل دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ خیبر پختونخوا وہ صوبہ ہے جس نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور سب سے زیادہ تباہی دیکھی، لیکن افسوس کہ آج اسی صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف ریاستی اقدامات پر سیاست کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے آپریشنز کی مخالفت نے یہ سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا اقتدار کی سیاست قومی سلامتی سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ جن عناصر نے مساجد، بازاروں، اسکولوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، ان کے خلاف کارروائی پر ابہام پیدا کرنا شہدا کے خون سے ناانصافی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پاک فوج، پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں جوانوں نے اس وطن کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہوئیں، بچے یتیم ہوئے اور خاندان کے خاندان اجڑ گئے، یہ سب قربانیاں کسی سیاسی بیانیے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے محفوظ مستقبل کے لیے دی گئیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کوئی ناراض فریق نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم ہے، جس کے ہاتھ ہزاروں پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں دو ٹوک مؤقف کے بجائے نرم لہجہ اختیار کرنا اور ریاستی کارروائیوں کی مخالفت کرنا دراصل ان قربانیوں کی توہین ہے جو ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں نے دیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے اور افواجِ پاکستان یہی آئینی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کنفیوژن نہیں بلکہ قومی یکجہتی درکار ہے، سیاست اپنی جگہ مگر ریاست، سلامتی اور شہدا کی قربانیاں ہر چیز سے بالاتر ہونی چاہییں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سب سے زیادہ نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔