تیل کی ترسیل کو ٹرانسپورٹ کے بجائے پائپ لائن کے ذریعے کی جائے گی، حکومت کا بڑا منصوبہ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
حکومت نے ملک میں تیل کی ترسیل کو ٹرانسپورٹ کے بجائے پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے، جس پر عملدرآمد سے ترسیلی اخراجات میں کمی اور صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے سال کا بڑا تحفہ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرولیم سیکٹر کی کارکردگی پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ملک میں ڈیزل کی سپلائی 100 فیصد ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہو رہی ہے، جبکہ پیٹرول کی سپلائی کا تقریباً 60 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتا ہے۔ پائپ لائن منصوبے سے لاگت میں کمی آئے گی اور نظام زیادہ مؤثر ہوگا۔
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں فیصل آباد سے ٹھلیاں تک پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ غیرقانونی آئل سپلائی چین کی روک تھام کے لیے ٹریکر سسٹم پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اصلاحاتی ایجنڈے کے نتیجے میں گیس کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے اور گیس سیکٹر کے گردشی قرض کے فلو کو زیرو کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ای سی سی اجلاس: گاڑیوں کی درآمد کا طریقہ کار تبدیل، پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی منظوری
وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ حکومت یا صارفین نے جو ایندھن استعمال کیا ہے اس کی ادائیگی ضروری ہے۔ حکومتی تین کمپنیوں کی ادائیگیوں کے معاملے پر ہائی پاورڈ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور آئل سپلائی چین اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درپیش مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق او ایم سیز کو ایف بی آر کے ساتھ ادائیگیوں کے حوالے سے مسائل درپیش ہیں، جن کے حل کے لیے وزارت خزانہ کے ساتھ 2 سے 3 اجلاس ہو چکے ہیں، اور ایک ہفتے سے 10 دن میں پیشرفت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی انڈسٹری کے لیے نئی پالیسی تیار کی جائے گی، کیونکہ ایل پی جی سیکٹر ڈی ریگولیٹ ہے مگر قیمتیں ریگولیٹ ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے جامع قومی انرجی پلان کے لیے علیحدہ سیکریٹریٹ بنانے کی منظوری دیدی
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ مائننگ سیکٹر کی ترقی کے لیے طویل المدتی پالیسی پر عملدرآمد ناگزیر ہے، اور ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری کے مراحل کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئل پیٹرول ڈیزل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیٹرول ڈیزل پائپ لائن کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔