آئی ایم ایف کی کڑی شرط؛ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلیے جامع پلان تیار WhatsAppFacebookTwitter 0 7 January, 2026 سب نیوز

شوگر ایکسپورٹ پر سبسڈی اور نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے، چینی کی برآمد اور درآمد پر پابندی بھی ہٹانے کی تجویز ہے
اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے ملک میں شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولائز کرنے کے لیے جامع پلان تیار کر لیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پلان کے تحت کاشتکاروں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور شوگر ایکسپورٹ پر سبسڈی اور نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے، چینی کی برآمد اور درآمد پر پابندی بھی ہٹانے کی تجویز ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت گندم کے بعد چینی کا شعبہ بھی مارکیٹ فورسز کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لیے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا جامع پلان تیار کیا گیا ہے۔

مجوزہ پلان کے مطابق کسانوں پر گنے کی کاشت کے لیے اقسام یا کسی زون کی پابندی نہیں ہوگی، وہ کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں بھی آزاد ہوں گے جبکہ گنے کی قیمت کا تعین سرکار نہیں بلکہ مارکیٹ کرے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان اور بشری بی بی کی جیل میں ملاقات، دونوں 45 منٹ تک اکٹھے رہے اسٹاک ایکسچینج کا نیا ریکارڈ: ایک لاکھ 87 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور سٹاک ایکسچینج میں ایک اور نیا ریکارڈ! ایک لاکھ 86 ہزار پوائنٹس کی تاریخی حد عبور نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا رمضان سے پہلے امپورٹس پر منحصر اشیا کی نگرانی کا حکم وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا گیس کی قیمتیں رواں سال برقرار رکھنے کا اعلان فی تولہ سونے کی قیمت میں آج پھر ہزاروں روپے کا اضافہ حکومت کا بجلی صارفین کو ایک اور ریلیف دینے کا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے جامع پلان تیار کی تجویز ہے پر پابندی کرنے کی کے لیے

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار