آئی ایم ایف کی کڑی شرط؛ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلیے جامع پلان تیار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے ملک میں شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولائز کرنے کے لیے جامع پلان تیار کر لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پلان کے تحت کاشتکاروں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور شوگر ایکسپورٹ پر سبسڈی اور نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے، چینی کی برآمد اور درآمد پر پابندی بھی ہٹانے کی تجویز ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت گندم کے بعد چینی کا شعبہ بھی مارکیٹ فورسز کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لیے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا جامع پلان تیار کیا گیا ہے۔
مجوزہ پلان کے مطابق کسانوں پر گنے کی کاشت کے لیے اقسام یا کسی زون کی پابندی نہیں ہوگی، وہ کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں بھی آزاد ہوں گے جبکہ گنے کی قیمت کا تعین سرکار نہیں بلکہ مارکیٹ کرے گی۔
مزید پڑھیںآئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کیلئے حکومت کا اہم فیصلہ
مجوزہ پلان کے مطابق حکومت چینی کی برآمد پر آئندہ کوئی سبسڈی نہیں دے گی اور ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ شوگر ملز کے لیے ایکسپورٹ کوٹہ بھی ختم کرنے کی تجویز ہے۔
شوگر ملز خام چینی باہر سے منگوا کر ری ایکسپورٹ بھی کر سکیں گی جبکہ شوگر ملز کو گنے یا درآمدی خام مال کی پراسیسنگ کی مکمل آزادی ہوگی۔
دستاویز کے مطابق حکومتی کمیٹی نے چینی کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ کسانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے گنے کی ممنوعہ اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کرنے کی تجویز ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شوگر سیکٹر کو ڈی ختم کرنے کی کی تجویز ہے شوگر ملز کے لیے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔