تحریک تحفظ آئین پاکستان کا احتجاج، راستے میں رکاوٹ ڈالنے والا خود ذمہ دار ہوگا، رہنما پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
لاہور:
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے لاہور میں زمان پارک سے سیاسی سرگرمیوں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے خبردار کیا ہے کہ ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور جو کوئی بھی راستے میں آئے گا وہ خود اس کا ذمہ دار ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت تین روزہ دورے پر کل لاہور روانہ ہوگی اور اس دوران اسٹریٹ موبلائیزیشن کی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ سینئیر نائب صدر علامہ راجا ناصر عباس، نائب صدر مصطفی نواز کھوکھر اور سیکریٹری جنرل اسد قیصر بھی دورہ میں شرکت کریں گے اور لاہور میں سیاسی اور سماجی ملاقاتیں کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کی قیادت محمود اچکزئی اور اسد قیصر کل شام کو لاہور پہنچیں گے اور زمان پاک لاہور میں ملاقاتیں کریں گے۔
پی ٹی آئی ذرائع نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی اور اسد قیصر جمعرات کو اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ روانہ ہوں گے، اسلام آباد سے لاہور تک راستے میں جگہ جگہ ان کا استقبال کیا جائے گا، پمفلٹ تقسیم کیے جائیں گے اور خطاب بھی کیے جائیں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے اظہار یک جہتی کے لیے لاہور آ رہی ہے، محمود خان اچکزئی اور اسد قیصر زمان پارک لاہور سے سیاسی سفر دوبارہ شروع کریں گے جہاں سے بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ فسطائی ریاست عدالت کے احکامات کے باوجود ملاقات نہیں ہونے دے رہی ہے، جیل کے اندر ایک آزاد شخص باہر سب قیدی بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسان، تاجر، ہاری اور مزدور سب اس فسطائی حکمرانی سے تنگ ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ ہمارا مقصد پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے عوام کو متحد کرنا ہے، جمہور کی آواز حقیقی آزادی آئین کی بالادستی اور عوام کی حاکمیت کے لیے ہے۔
رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا کہ جو بھی راستے میں رکاوٹ ڈالے گا وہ خود ذمہ دار ہوگا کیونکہ ہمارا احتجاج مکمل طور پر آئینی اور پرامن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان راستے میں پی ٹی آئی نے کہا کہ کریں گے اور اس
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔