سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اس وقت ایندھن پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر ٹیکس عائد ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کے بیان پر ردعمل میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اپریل سے جون 2022ء میں اپنا راستہ نہ بدلا ہوتا تو پاکستان دیوالیہ ہوچکا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام ختم کر کے پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دینا شروع کردی تھی۔

سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ دیوالیہ پن سے بچنے کا راستہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی تھا، جو کابینہ نے کیا، ن لیگ کی اعلیٰ قیادت میں شامل چند افراد نے ہمیں یہ درست فیصلہ کرنے سے روکا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے ایندھن پر سبسڈی ختم کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کی کوشش کی، ڈیزل پر 70 روپے اور پیٹرول پر 40 روپے فی لیٹر سبسڈی سے ہر ماہ 110 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایندھن پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر ٹیکس عائد ہے، پی ڈی ایم حکومت نے 2023ء میں پاکستان کو ایک اور ممکنہ دیوالیہ پن کی طرف دھکیل دیا۔

انہوں نے کہا کہ 2023ء میں پاکستان کو بلند ترین مہنگائی، روپےکی قدر میں سب سے بڑی گراوٹ کاسامنا کرنا پڑا، جون میں کوئی اور راستہ نہ بچنے پر، حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت رخصت ہوئی تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 290 تک جا چکی تھی، موجودہ حکومت کے 2 سال مکمل ہوچکے، اب اسے ملکی معاشی حالات کی ذمے داری قبول کرنا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تمام معاشی مسائل کا الزام مسلسل تحریک انصاف پر ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے، رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں پاکستان کی برآمدات میں 6 فیصد کمی کا الزام پی ٹی آئی پر نہیں ڈالنا چاہیے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بیروزگاری کی شرح 21 برسوں کی بلند ترین شرح پر ہے، کیا یہ بھی اب تک تحریک انصاف ہی کی غلطی ہے؟

انہوں نے کہا کہ غربت کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، انتہائی غریب افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، کیا اس سب کا ذمہ دار بانی پی ٹی آئی کو ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ آج پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مفتاح اسماعیل نے روپے فی لیٹر ا ئی ایم ایف ایندھن پر نے کہا کہ

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا