Islam Times:
2026-07-24@03:01:54 GMT

ایران میں مظاہرے اور امریکی توہمات

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

ایران میں مظاہرے اور امریکی توہمات

اسلام ٹائمز: ایک پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے ہماری نیک تمنائیں اپنے ایرانی بھائیوں کے ہمراہ ہیں۔ خدا آپکی مشکلات کو آسان فرمائے، آپکی قومی آزادی، خود مختاری اور استقلال تمام مسلمانوں کیلئے ایک مثال ہے، جس کیلئے یقیناً آپ نے بے پناہ مشکلات اور صعوبتیں جھیلی ہیں، جنکا کوئی دوسرا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس موقع پر اگر پاکستانی حکام جنھوں نے 12 روزہ جنگ میں ایران کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، انکا ذکر نہ کیا جائے تو زیادتی ہوگی، پاکستان نے درست موقع پر درست اقدام کیا، جس سے دونوں ممالک کے مابین موجود شکوک و شبہات کا خاتمہ ہوا۔ اس دوستی اور باہمی رفاقت کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم مشکل وقت میں ایک دوسرے کے زور بازو بنیں۔ تحریر: سید اسد عباس

ایران کے اقتصادی، معاشرتی اور معاشی مسائل پر جتنے مظاہرے ایران میں ہوئے، اتنے مظاہرے پاکستان اور دنیا کے گوش و کنار میں آئے روز ہوتے ہیں۔ ایرانی عوام عالمی پابندیوں کے باعث درپیش معاشی سختیوں، مخدوش اقتصادی صورتحال کے باوجود اس چیز کا شعور رکھتی ہے کہ ملک کی آزادی، خود مختاری اور قومی وقار کی کوئی قیمت نہیں، تبھی تو دفاع مقدس میں ہزاروں جانوں کی قربانی پیش کی، چالیس برس سے مسلسل پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور آئے روز قیمتی جانیں اپنے وطن کی سالمیت اور دفاع کے لیے قربان کرتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا کو بڑی امید تھی کہ 12 روزہ جنگ کے دوران عوام موجود نظام کے خلاف بغاوت کر دے گی۔ ان کا خیال تھا کہ مرکزی قیادت کو شہید کرنے سے نظام مفلوج ہو جائے گا۔ فوجی سربراہان، ایٹمی سائنسدان، میزائل پروگرام کے سربراہ، انٹیلی جنس کے افسران، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزرز کو اسرائیل نے کامیابی سے نشانہ بنایا، مگر ایرانی قوم کے عزم اور استقامت کو نشانہ نہ بنا سکا۔

فقط چند گھنٹوں میں ایران دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوگیا اور اس نے تل ابیب کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ٹرمپ کو مداخلت کرکے یک طرفہ طور پر جنگ روکنی پڑی۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کو چند افراد کو خریدنے میں تو کامیابی ملی، تاہم پوری قوم کو خریدنا ان کے بس سے باہر تھا۔ بکاؤ مال تقریباً ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، یہ کوئی اچھنپے کی بات نہیں۔ ایرانیوں کا ایک مخصوص مزاج ہے، وہ بھوکے تو رہ لیں گے، لیکن کسی بیرونی قوت کے تسلط کو قبول نہیں کریں گے۔ جب 330 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے ہخامنشی سلطنت کو شکست دی اور تختِ جمشید کو آگ لگا دی، تو بظاہر ایسا لگتا تھا کہ ایرانی تہذیب ختم ہو جائے گی، لیکن ایرانیوں نے یونانی حکمرانوں کو اپنی ثقافت میں اس طرح جذب کیا کہ خود یونانیوں پر ایرانی رنگ چڑھ گیا۔ بالآخر پارتھین اور ساسانیوں نے دوبارہ ایک خالص ایرانی سلطنت قائم کر لی۔

ساتویں صدی عیسویں میں ایران کی مسلمانوں کے ہاتھوں فتح کے بعد وہاں کی سیاسی بساط الٹ گئی اور مذہب تبدیل ہوگیا، لیکن ایرانیوں نے اپنی لسانی شناخت کو مٹنے نہیں دیا۔ ایرانی عرب حاکموں کے بجائے عرب اپوزیشن کے حامی بنے اور خاندان اہل بیت ؑ کی متعدد شخصیات کو ایران کے مختلف علاقوں میں پناہ دی، جنھوں نے وہاں حکومتیں قائم کیں۔ 13ویں صدی میں منگولوں کے حملے ایران کی تاریخ کا سیاہ ترین باب تھے۔ شہر کے شہر راکھ کر دیئے گئے اور لاکھوں لوگ مارے گئے۔ تاہم، ایرانیوں نے اپنی فکری اور انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے منگولوں کو متاثر کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وحشی منگول فاتحین خود مسلمان ہوئے اور ایرانی فنِ تعمیر، شاعری اور نظامِ حکومت کے سب سے بڑے سرپرست بن گئے۔ صفوی دور میں ایران عثمانیوں کے خلاف برس پیکار رہا، اسی زمانے میں فارس دوبارہ ایک عظیم ریاست کے طور پر ابھرا۔

1891ء تمباکو تحریک غیر ملکی اجارہ داری کے خلاف ایرانی قوم کے شعور کی مثال ہے۔ اسی طرح 1905ء سے 1911ء تک چلنے والی مشروطہ تحریک کے دوران ایرانی برطانوی سامراج اور روس کے مابین وسائل کی بندر بانٹ کے مقابل دٹ گئے اور ملک کو آئین و قانون کی حکمرانی کے تحت لائے۔ مصدق نے تیل کو برطانوی سامراج کے ہاتھوں سے واگزار کیا، جس کا عوام نے بھرپور ساتھ دیا۔ دفاع مقدس دنیا کی طویل ترین جنگوں میں سے ایک جنگ ہے، جس میں ایرانیوں نے فقط اپنے جذبہ کے بل بوتے پر زیادہ پیشرفتہ دشمن کا مقابلہ کیا۔ چالیس برسوں سے جتنی اقتصادی، معاشی، علمی پابندیاں ایران پر ہیں، اگر کسی اور یورپی یا ایشیائی ملک پر ہوتیں تو اب تک وہ ملک کسی طاقتور کی کالونی بن چکا ہوتا یا پھر کورینز کی مانند باقی دنیا کے لیے ایلئینز  ہوتے۔

مجھے 2016ء میں زیارات کے لیے ایران  و عراق جانے کا موقع ملا، عراق تازہ تازہ جنگ سے نکلا تھا، نجف سے سامرہ تک کوئی گھر سالم نہیں تھا۔ سڑک کنارے ہر عمارت میں گولہ لگنے کا نشان تھا یا وہ گر چکی تھی۔ کربلا اور نجف محفوظ تھے، تاہم پاکستان کے شہروں سے زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے۔ وہاں کی سب سے حسین عمارتیں آئمہ کے مزارات تھے، شہر میں اس کے علاوہ مجھے کوئی دیدہ زیب عمارت دکھائی نہ دی۔ مگر جب ایران میں نزول ہوا تو ان کا انفراسٹرکچر دیکھ کر حیرت ہوئی، وسیع و کشادہ پارکس، صاف ستھری گلیاں اور پررونق بازار دیکھ کر بالکل اندازہ نہیں ہوتا کہ اس ملک کو زر مبادلہ کمانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایرانی قوم نے رکاوٹوں کی مواقع میں بدل لیا ہے۔ یقیناً ابھی بہتری کے بہت سے امکانات موجود ہیں، ایران کے سیاسی قائدین کوشش کر رہے ہیں کہ مشکلات کے باوجود حالات کو بہتر سے بہتر بنایا جائے۔

بعض اوقات وہ حکمت عملی پر باہم متصادم بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ممکن ہے ایرانی عوام بھی مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے حکومتی سرعت سے زیادہ مطمئن نہ ہوں، تاہم جیسے ہی قومی وقار، حق خود ارادیت اور ملکی سالمیت کی بات آئے گی تو ایرانی سب کچھ بھول بھلا کر ایک قوم بن جائیں گے۔ لہذا اس کو وینزویلا نہیں سمجھنا چاہیئے، جن کا صدر امریکی اٹھا کر لے گئے اور قوم نے اب تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا، جو امریکہ کے لیے پریشانی کا باعث بنے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اور اس کے حواریوں کو گذشتہ چالیس برسوں سے کوئی ایسی ایرانی شخصیت نہیں مل رہی، جو ان کے جھانسے میں آئے اور ایرانی عوام بھی اس کے جھانسے میں آجائیں۔ جاوید شاہ فقط سابق مفرور بادشاہ کا بیٹا ہونے کے علاوہ کچھ نہیں۔ نہ اس کا کوئی علمی و فکری کام ہے، نہ کوئی سیاسی جدوجہد۔ ایران میں رجیم چینج کی خواہش رکھنے والوں کی اس سے بڑی مجبوری کیا ہوگی کہ وہ بار بار جاوید شاہ کو ہی سامنے لاتے ہیں۔

ایک پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے ہماری نیک تمنائیں اپنے ایرانی بھائیوں کے ہمراہ ہیں۔ خدا آپ کی مشکلات کو آسان فرمائے، آپ کی قومی آزادی، خود مختاری اور استقلال تمام مسلمانوں کے لیے ایک مثال ہے، جس کے لیے یقیناً آپ نے بے پناہ مشکلات اور صعوبتیں جھیلی ہیں، جن کا کوئی دوسرا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس موقع پر اگر پاکستانی حکام جنھوں نے 12 روزہ جنگ میں ایران کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، ان کا ذکر نہ کیا جائے تو زیادتی ہوگی، پاکستان نے درست موقع پر درست اقدام کیا، جس سے دونوں ممالک کے مابین موجود شکوک و شبہات کا خاتمہ ہوا۔ اس دوستی اور باہمی رفاقت کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم مشکل وقت میں ایک دوسرے کے زور بازو بنیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانیوں نے میں ایران ایران میں کے لیے اور اس ئے اور

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی