سی ٹی ڈی نے کالعدم تنظیم زینیبیون بریگیڈ کے 4 دہشت گرد گرفتار کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر )سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے شہر میں ایک بڑی کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم زینیبیون بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد گزشتہ دنوں شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور دیگر دہشت گردانہ وارداتوں میں ملوث تھے۔ ملزمان کی شناخت اور ان کے ممکنہ نیٹ ورک کی تفصیلات تفتیش کے بعد سامنے لائی جائیںگی۔پولیس نے کارروائی کے بعد دہشت گردوں کے قبضے سے ممکنہ اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ثبوت بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ملزمان متعدد حساس وارداتوں میں سرگرم تھے اور شہر کی مجموعی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔سی ٹی ڈی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں ایسے عناصر یا مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں کوئی اطلاع ہو تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر رپورٹ کریں۔مزید تفتیش جاری ہے اور پولیس نے گرفتار دہشت گردوں سے مزید شواہد اور نیٹ ورک کی معلومات حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان