دہشتگردی کی ناکامی حکومت سندھ اور پولیس کی بڑی کامیابی ، کاٹی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت، ایکٹنگ پیٹرن ان چیف زبیر چھایا اور لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین دانش خان نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں کے بڑے منصوبے کی بروقت ناکامی پر سندھ حکومت، پولیس اور سیکورٹی اداروں کو بزنس کمیونٹی کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور اسے شہر کے امن و امان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ صدر کاٹی محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنانے پر وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی آزاد خان تنولی، سی ٹی ڈی اورقانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ دہشت گرد اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہو جاتے تو کراچی ایک بڑی آفت سے دوچار ہو سکتا تھا، جس کے نتیجے میں بے شمار قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور شدید معاشی نقصان ہوتا۔ سندھ پولیس اور متعلقہ اداروں نے بروقت، پیشہ ورانہ اور موثر کارروائی کرکے اس بڑے سانحے کو ناکام بنایا، جو قابلِ ستائش ہے۔ محمد اکرام راجپوت نے اپنے بیان میں کہا کہ 2 ہزار کلوگرام دھماکہ خیز مواد سے بھرے منی ٹرک کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد کتنی بڑی تباہی پھیلانے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم سندھ پولیس کی بروقت کارروائی نے کراچی کو ایک بڑے المیے سے بچا لیا۔ اکرام راجپوت نے مزید کہا کہ یہ کارروائی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سندھ پولیس نہ صرف جرائم کی روک تھام کے لیے سرگرم ہے بلکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اہلکاروں کی جرأت مندی اور نظم و ضبط نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ادارے پیشہ ورانہ انداز میں کام کریں تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی کامیابی سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ایکٹنگ پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کہا کہ اس کامیاب آپریشن سے شہریوں کی جانیں محفوظ ہوئیں بلکہ شہر کو بھی ایک سنگین خطرے سے بچا لیا گیا۔ انہوں نے سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سرمایہ کاروں اور تاجر برادری کے اعتماد کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ زبیر چھایا نے کہا کہ رئیس گوٹھ میں کی گئی کارروائی نے ثابت کر دیا کہ سندھ پولیس اب جدید خطوط پر کام کرتے ہوئے بروقت آپریشنز کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بلدیہ ٹاؤن رئیس گوٹھ میں کی گئی کارروائی سندھ پولیس کی صلاحیت، جرأت مندی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین دانش خان نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اسی عزم اور سختی کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھی جائیں تاکہ کراچی میں امن و امان کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے حکومت سندھ، پولیس، سیکورٹی اداروں اور تمام متعلقہ محکموں کو اس کامیاب کارروائی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بزنس کمیونٹی شہر کے امن، شہریوں کے تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہر کوشش کی مکمل حمایت کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اکرام راجپوت سندھ پولیس نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک