data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت، ایکٹنگ پیٹرن ان چیف زبیر چھایا اور لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین دانش خان نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں کے بڑے منصوبے کی بروقت ناکامی پر سندھ حکومت، پولیس اور سیکورٹی اداروں کو بزنس کمیونٹی کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور اسے شہر کے امن و امان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ صدر کاٹی محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنانے پر وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی آزاد خان تنولی، سی ٹی ڈی اورقانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ دہشت گرد اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہو جاتے تو کراچی ایک بڑی آفت سے دوچار ہو سکتا تھا، جس کے نتیجے میں بے شمار قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور شدید معاشی نقصان ہوتا۔ سندھ پولیس اور متعلقہ اداروں نے بروقت، پیشہ ورانہ اور موثر کارروائی کرکے اس بڑے سانحے کو ناکام بنایا، جو قابلِ ستائش ہے۔ محمد اکرام راجپوت نے اپنے بیان میں کہا کہ 2 ہزار کلوگرام دھماکہ خیز مواد سے بھرے منی ٹرک کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد کتنی بڑی تباہی پھیلانے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم سندھ پولیس کی بروقت کارروائی نے کراچی کو ایک بڑے المیے سے بچا لیا۔ اکرام راجپوت نے مزید کہا کہ یہ کارروائی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سندھ پولیس نہ صرف جرائم کی روک تھام کے لیے سرگرم ہے بلکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اہلکاروں کی جرأت مندی اور نظم و ضبط نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ادارے پیشہ ورانہ انداز میں کام کریں تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی کامیابی سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ایکٹنگ پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کہا کہ اس کامیاب آپریشن سے شہریوں کی جانیں محفوظ ہوئیں بلکہ شہر کو بھی ایک سنگین خطرے سے بچا لیا گیا۔ انہوں نے سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سرمایہ کاروں اور تاجر برادری کے اعتماد کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ زبیر چھایا نے کہا کہ رئیس گوٹھ میں کی گئی کارروائی نے ثابت کر دیا کہ سندھ پولیس اب جدید خطوط پر کام کرتے ہوئے بروقت آپریشنز کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بلدیہ ٹاؤن رئیس گوٹھ میں کی گئی کارروائی سندھ پولیس کی صلاحیت، جرأت مندی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین دانش خان نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اسی عزم اور سختی کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھی جائیں تاکہ کراچی میں امن و امان کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے حکومت سندھ، پولیس، سیکورٹی اداروں اور تمام متعلقہ محکموں کو اس کامیاب کارروائی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بزنس کمیونٹی شہر کے امن، شہریوں کے تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہر کوشش کی مکمل حمایت کرتی رہے گی۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اکرام راجپوت سندھ پولیس نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا