پاکستان اور افغانستان مذاکرات کریں،غزہ میں فوج بھیجنا قبول نہیں،حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-01-15
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اٹک میں جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں
اٹک(جسارت نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت کبھی بھی مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا، افغان سرزمین کسی صورت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کابل نئی دہلی سے امیدیں وابستہ کرے، دونوں مسلمان پڑوسی ممالک بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں۔ امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی فوج کا غزہ جانا قوم کو کسی صورت بھی قبول نہیں ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان میں جنگ کا فائدہ مسلمان دشمن قوتیں اٹھائیں گی، دونوں ممالک ہوش کے ناخن لیں اور بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں ، اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو ثالثوں سے مدد لیں، دونوں ممالک میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو بات چیت سے راستہ نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے بھی پاک افغان مذاکرات میں تعاون کی پیشکش کی، وزیراعظم امریکی صدر کی خوشامد کرنا بند کریں اور عوام کی حقیقی ترجمانی کریں، خوشامد اور کاسہ لیسی کرنے والا وزیراعظم قوم کو قبول
نہیں۔ ٹرمپ فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کی مکمل سرپرستی کررہا ہے، اس نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرلیا، اب گرین لینڈ ، کیوبا اور ایران کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ وزیراعظم بتائیں کہ کیا ان کے بقول اب بھی ٹرمپ امن کا پیامبر ہے ، شہباز شریف نے ٹرمپ کے لیے نوبل انعام تجویز کیا تھا، کیا وہ اب بھی ان کے لیے یہی انعام تجویز کرتے ہیں؟ ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اٹک میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری جنرل پنجاب شمالی اقبال احمد خان، امیر اٹک سردار امجد علی خان اور صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی نے بھی خطاب کیا۔ خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد جلسے میں شریک تھی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب کا بلدیاتی قانون جعلی ، جمہوریت دشمن اور عوام سے نفرت کا اظہار ہے، 15 جنوری کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس قانون پر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں رائے لیں گے، نتائج کے بعد پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا، آئی پی پیز مافیا کے خلاف بھی نئے سرے سے منظم تحریک کا آغاز ہو گا۔امیر جماعت اسلامی نے ملک کے عدالتی نظام ، تعلیمی مسائل اور مزدور اورکسان طبقے کی پریشانیوں کا تذکرہ کیا اور موجودہ نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا قیام پاکستان کے بعد آج تک آزادی کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے، افسر شاہی انگریز کے دیے گئے نظام کی محافظ ہے، سول، ملٹری اسٹیبلشمنٹ انگریزوں کا نظام ہی چلا رہی ہے، موجودہ فرسودہ نظام میں بیوروکریسی اپنے آپ کو عوام کا خادم نہیں آقا تصور کرتی ہے، جاگیردار اور سرمایہ دار نسل در نسل انگریزوں کی وفاداری نبھا رہے ہیں، سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرتی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے، اس نظام کو بدلنے کے لیے جدوجہد کو تیز تر کرنا ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور طبقہ غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنا چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو عوام کو بااختیار بنانے کی کاوشیں کرنا چاہییں ، تاہم صورتحال یہ ہے کہ عدالتی نظام گلا سڑا ہے، انصاف کے حصول کے لیے لوگوں کو دھکے کھانا پڑتے ہیں، عدالتوں میں 23 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، 3 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، غریب مزدور اور کسان کے بچے کی بہتر تعلیم تک رسائی نہیں، سرکاری اسکولوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔ ملک میں کروڑوں مزدوروں کو مزدور تسلیم ہی نہیں کیا جاتا ، ان کی رجسٹریشن کے مسائل ہیں، حکومتوں کے اعلانات کے باوجود کم سے کم تنخواہ پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نوجوانوں تک رسائی حاصل کریں، عوام میں بیداری کی جدوجہد تیز کریں، مسلط طبقہ سے جان چھڑائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔