data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260108-01-15
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اٹک میں جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں

اٹک(جسارت نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت کبھی بھی مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا، افغان سرزمین کسی صورت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کابل نئی دہلی سے امیدیں وابستہ کرے، دونوں مسلمان پڑوسی ممالک بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں۔ امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی فوج کا غزہ جانا قوم کو کسی صورت بھی قبول نہیں ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان میں جنگ کا فائدہ مسلمان دشمن قوتیں اٹھائیں گی، دونوں ممالک ہوش کے ناخن لیں اور بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں ، اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو ثالثوں سے مدد لیں، دونوں ممالک میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو بات چیت سے راستہ نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے بھی پاک افغان مذاکرات میں تعاون کی پیشکش کی، وزیراعظم امریکی صدر کی خوشامد کرنا بند کریں اور عوام کی حقیقی ترجمانی کریں، خوشامد اور کاسہ لیسی کرنے والا وزیراعظم قوم کو قبول
نہیں۔ ٹرمپ فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کی مکمل سرپرستی کررہا ہے، اس نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرلیا، اب گرین لینڈ ، کیوبا اور ایران کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ وزیراعظم بتائیں کہ کیا ان کے بقول اب بھی ٹرمپ امن کا پیامبر ہے ، شہباز شریف نے ٹرمپ کے لیے نوبل انعام تجویز کیا تھا، کیا وہ اب بھی ان کے لیے یہی انعام تجویز کرتے ہیں؟ ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اٹک میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری جنرل پنجاب شمالی اقبال احمد خان، امیر اٹک سردار امجد علی خان اور صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی نے بھی خطاب کیا۔ خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد جلسے میں شریک تھی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب کا بلدیاتی قانون جعلی ، جمہوریت دشمن اور عوام سے نفرت کا اظہار ہے، 15 جنوری کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس قانون پر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں رائے لیں گے، نتائج کے بعد پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا، آئی پی پیز مافیا کے خلاف بھی نئے سرے سے منظم تحریک کا آغاز ہو گا۔امیر جماعت اسلامی نے ملک کے عدالتی نظام ، تعلیمی مسائل اور مزدور اورکسان طبقے کی پریشانیوں کا تذکرہ کیا اور موجودہ نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا قیام پاکستان کے بعد آج تک آزادی کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے، افسر شاہی انگریز کے دیے گئے نظام کی محافظ ہے، سول، ملٹری اسٹیبلشمنٹ انگریزوں کا نظام ہی چلا رہی ہے، موجودہ فرسودہ نظام میں بیوروکریسی اپنے آپ کو عوام کا خادم نہیں آقا تصور کرتی ہے، جاگیردار اور سرمایہ دار نسل در نسل انگریزوں کی وفاداری نبھا رہے ہیں، سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرتی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے، اس نظام کو بدلنے کے لیے جدوجہد کو تیز تر کرنا ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور طبقہ غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنا چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو عوام کو بااختیار بنانے کی کاوشیں کرنا چاہییں ، تاہم صورتحال یہ ہے کہ عدالتی نظام گلا سڑا ہے، انصاف کے حصول کے لیے لوگوں کو دھکے کھانا پڑتے ہیں، عدالتوں میں 23 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، 3 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، غریب مزدور اور کسان کے بچے کی بہتر تعلیم تک رسائی نہیں، سرکاری اسکولوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔ ملک میں کروڑوں مزدوروں کو مزدور تسلیم ہی نہیں کیا جاتا ، ان کی رجسٹریشن کے مسائل ہیں، حکومتوں کے اعلانات کے باوجود کم سے کم تنخواہ پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نوجوانوں تک رسائی حاصل کریں، عوام میں بیداری کی جدوجہد تیز کریں، مسلط طبقہ سے جان چھڑائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا۔

جسارت نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی