غیر قانونی تیل سپلائی چین روکنے کے لیے ٹریکر نظام کاآغاز
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-01-17
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )وفاقی حکومت نے ملک میں تیل سپلائی کو ٹرانسپورٹ سے پائپ لائن پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس سے نہ صرف اخراجات میں کمی ہوگی بلکہ صارفین کو بھی ریلیف ملے گا۔پیٹرولیم ڈویڑن کی جانب سے بتایا گیا کہ ملک میں تیل کی سپلائی ٹرانسپورٹ سے پائپ لائن پر منتقل کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد سے ٹرانسپورٹ اخراجات کم اور
صارفین کو ریلیف ملے گا، ملک میں اس وقت ڈیزل 100 فیصد ٹرانسپورٹ سپلائی پر فراہم ہو رہا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ پیٹرول کی سپلائی ملک بھر میں 60 فیصد ٹرانسپورٹ پر منحصر ہے، منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں فیصل آباد سے ٹھلیاں پائپ لائن بچھائی جائے گی جبکہ غیر قانونی آئل سپلائی چین روکنے کے لیے ٹریکر نظام پر عمل درآمد کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے صحافیوں کو پیٹرولیم سیکٹر کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کیا گیا، ایجنڈے پر عمل درآمد سے گیس قیمتوں میں استحکام آیا، گیس سیکٹر کے گردشی قرض کا فلو زیرو کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت یا صارفین جو ایندھن استعمال کر چکے اس کی ادائیگی کرنی ہے، حکومتی تین کمپنیوں کی ادائیگیوں کے بارے میں ہائی پاورڈ کمیٹی بنائی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری لانے کے لیے اقدامات کیے گئے، آئل سپلائی چین اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے مسائل پر توجہ ہے، آئل سپلائی چین او ایم سیز کو ایف بی آر سے ادائیگیوں کے مسائل حل طلب ہیں۔علی پرویز ملک نے بتایا کہ وزارت خزانہ کے ساتھ ادائیگیوں کے بارے میں دو سے تین اجلاس ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے ایک ہفتے سے 10 دن تک پیش رفت متوقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایل پی جی انڈسٹری کے حوالے سے نئی پالیسی بنائی جائیگی اور ایل پی جی سیکٹر اس وقت ڈی ریگولیٹ جبکہ قیمتیں ریگولیٹ ہو رہی ہیں۔وفاقی وزیر نے سوال کرتے ہوئے بتایا کہ ریکوڈک کے اوپر پہلا ڈالر کب خرچہ کیا گیا تھا، مائننگ سیکٹر کو ڈیولپ کرنے کے لیے لانگ ٹرم پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپلائی چین حوالے سے کے لیے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔