کراچی میں بھتا خوری کا منظم نیٹ ورک جیل سے چلانے کاانکشاف
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-01-20
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے شہر میں بھتا خوری کے منظم نیٹ ورک کے خلاف جاری کارروائی میں گرفتار ملزمان جواد عرف واجہ، شاہ زیب اور ریحان سے تفتیش مکمل کرلی ہے، جس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ایس
آئی یو ذرائع کے مطابق تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ یہ بھتا خوری کا نیٹ ورک 2022 سے فعال ہے اور مختلف علاقوں میں دکان داروں، تاجروں اور کاروباری شخصیات سے مالی مطالبات وصول کرنے کے لیے منظم طریقے سے کام کرتا رہا۔ملزمان کی جانب سے حاصل شدہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس نیٹ ورک کی منصوبہ بندی جیل کے اندر سے کی گئی، جہاں گرفتار افراد اپنے ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں رہ کر مختلف علاقوں میں بھتا خوری کی کارروائیاں کراتے رہے۔تفتیش کے دوران ملزمان نے کئی دیگر معاون افراد کی شناخت بھی کرائی، جن کے نام اور رہائش گاہیں پولیس نے محفوظ کرلی ہیں۔ ایس آئی یو کے مطابق جلد ان افراد کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ایس آئی یو حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے اعترافات اور شواہد کی بنیاد پر مزید مقدمات درج کیے جائیں گے اور شہر میں بھتا خوری کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری رہیں گی۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک شخص یا بھتا خوری کے معاملات کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت کارروائی کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں بھتا خوری ایس ا ئی یو نیٹ ورک
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔