38 ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-08-1
اسلام آباد (صباح نیوز)وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی کی صدارت میں منعقدہ 38 ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس (آئی پی ای ایم سی)میں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم نے سکول سے باہر بچوں کے لیے قومی تعلیمی ہنگامی اقدامات کی حتمی منظوری دے دی۔ اجلاس میں وزیر مملکت تعلیم وجیہہ قمر، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر، سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب، وزیر تعلیم بلوچستان کی راحیلہ حمید درانی، سندھ کے وزیر تعلیم محمد اسماعیل راہو، ویڈیو لنک کے ذریعے پنجاب کے وزیر تعلیم رانا اقبال سکندر اور خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان سمیت تمام صوبائی وزرائے تعلیم نے شرکت کی۔کانفرنس میں خصوصی وفاقی ”چیلنج فنڈ” کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس کا مقصد اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں واپس لانا ہے۔ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام انتظامی اکائیوں نے سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر اس تعلیمی ہنگامی حالت پر متفقہ طور پر عملدرآمد، اسکول سے باہر بچوں کی واپسی، اور بین الاقوامی معیار کے امتحانی و نصابی اصلاحات کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔صوبائی نمائندوں نے اپنی پیش رفتوں سے آگاہ کیا: پنجاب کے وزیر رانا سکندر نے 18 لاکھ ”گھوسٹ” طلبہ کا خاتمہ اور 10 ہزار اسکولوں کو آوٹ سورس کرنے کا اعلان کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزرائے تعلیم وزیر تعلیم کے وزیر
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔