ہارون اختر خان کی فارچون 500 چینی کمپنی شیامن سی اینڈ ڈی کے نمائندوں سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-08-3
اسلام آباد (صباح نیوز) وزیراعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان نے فارچون 500 چینی کمپنی شیامن سی اینڈ ڈی کے نمائندوں سے ایک اہم ملاقات کی، جس کے دوران کمپنی نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات میں چیئرمین ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی (ای پی زیڈ اے) فریدون اکرم شیخ اور ای پی زیڈ اے کے بورڈ ممبران نے بھی شرکت کی۔ملاقات کے دوران شیامن سی اینڈ ڈی نے پاکستان کے آٹوموبائل، اسٹیل اور آئرن سیکٹر میں سرمایہ کاری میں بھرپور دلچسپی ظاہر کی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ شیامن سی اینڈ ڈی ایک عالمی شہرت یافتہ کمپنی ہے جو عالمی سپلائی چین، اسٹیل، معدنیات، آٹوموٹو، رئیل اسٹیٹ، بین الاقوامی تجارت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔حکومتی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے خصوصی معاون نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے حالیہ دور چین کے بعد پاکستان میں چینی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہارون اختر خان نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ چینی سرمایہ کاروں کو مکمل حکومتی سہولیات اور تعاون فراہم کیا جائے گا، اور وزیراعظم کی ہدایات کے تحت قومی صنعتی پالیسی صنعتوں اور سرمایہ کاروں کو مزید بااختیار بنائے گی۔ حکومتِ پاکستان، شیامن سی اینڈ ڈی کے ساتھ مل کر ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دے گی۔ شیامن سی اینڈ ڈی کی پاکستان آمد سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا اور ملکی معیشت و صنعتی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شیامن سی اینڈ ڈی ہارون اختر خان سرمایہ کاری
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔