اپوزیشن جب بھی مجھ سے رابطہ کرے گی تو مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے تیار ہوں، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہےکہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اپوزیشن بھی بار بار مذاکرات کی بات کر رہی ہے ،اب جب اپوزیشن مجھ سے رابطہ کرے گی تو وزیر اعظم کو بتاوں گے کہ وہ تیار ہیں آپ مذاکرات کے لیے اپنی لوگوں کے نام دیں۔
نجی نیوز چینل دنیا نیوزکے پروگرام 'نقطہ نظر، میں سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے سوال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن کے معاملے کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے لیکن ایک معاملہ جو عدالت میں ہے، انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں کیس کیا ہوا تھا جس میں سپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس موصول ہوا، اس کے بعد یہ سپریم کورٹ چلے گئےاور وہاں سے بھی ہمیں نوٹس موصول ہوا ، پھر سپریم کورٹ نے اس کیس کو پشاور ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔میں نے اپوزیشن کو چار خطوط لکھے جس کے بعد انہوں نے تصدیق شدہ کاپی سپیکر آفس میں جمع کرائی، اب میں آئندہ سیشن میں اعلان کروں گا کہ جس نے لیڈر آف اپوزیشن کے کاغذات جمع کرانے ہیں وہ کرا دے، اپوزیشن جس کو بھی نامزد کرے گی ہم پراسیس شروع کر دیں گے۔مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ میرے پاس تو قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران ہی آئیں گے ، منتخب نمائندگان کے علاوہ اگر کو ئی حکومت سے بات کرنا چاہتا ہے تو وہ خود سے رابطے کر سکتا ہے۔
مجیب الرحمان شامی کے ایک سوال پر ایاز صادق نے کہا کہ بنگلہ دیش میں لوگوں نے جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا، وہاں پر جس طرح سے ڈاکٹر یونس اور دیگر رہنما ملے اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے دلوں میں پاکستان کے لیے کیسے جذبات ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھارتی وزیر خارجہ سے مصافحہ کے سوال پر ایاز صادق نے کہا کہ میں وہاں پر پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا کوئی اپنے ذاتی جذبا ت کا مظاہرہ نہیں کر رہا تھا کہ ہاتھ نہ ملاتا ۔
پاک، بنگلہ دیش براہ راست فضائی رابطے میں اہم پیشرفت، ڈھاکہ سے کراچی کیلیے پروازوں کا شیڈول جاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایاز صادق نے کہا قومی اسمبلی نے کہا کہ بات کر کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔