حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلیے وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلیے وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 7 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگنل دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اسپیکر سردار ایاز صادق کو گرین سگنل دے دیا ہے جب کہ حکومتی وفد اسپیکر کی درخواست پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے۔ غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب اسپیکر آفس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کے لیے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا۔
اسپیکر آفس ذرائع کے مطابق سردار ایاز صادق نے ابھی تک پارلیمانی کمیٹی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اپوزیشن رضا مند ہوئی تو فوری طور پر اسپیکر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔
اس حوالے سے پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر کی پیشکش کے باوجود ابھی تک اپوزیشن نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ اسپیکر نے تحریک انصاف کو اپنے چیمبر میں آنے کی دعوت دی ہوئی ہے ۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف نے اسپیکر سے آخری ملاقات محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے کی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچترال پروازوں کی بندش پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا سخت اظہارِ تشویش چترال پروازوں کی بندش پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا سخت اظہارِ تشویش اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی کی اسکرونٹی کا مرحلہ مکمل عمران خان سے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی چکوال میں مسافر بس کھائی میں جاگری، 5 افراد جاں بحق اپوزیشن کیساتھ مذاکرات اور جمہوریت کو آگے بڑھانے کیلئے بالکل تیار ہیں: رانا ثناء اللہ محکمہ موسمیات نے شعبان المعظم کے چاند کی پیشگوئی کر دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے درمیان مذاکرات حکومت اور
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔