پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ عمران خان کے بغیر کسی قسم کے مذاکرات قابلِ قبول نہیں، پی ٹی آئی کا واحد مطالبہ آئین و قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی مکمل آزادی ہے، تبدیلی ایک یا دو دن کے دھرنے سے نہیں آتی، ہم ملک کی ہر گلی، ہر چوک اور ہر محلے میں عوام کو متحرک کریں گے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہاکہ عمران خان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ بات صرف انہی فیصلہ ساز قوتوں سے ہو سکتی ہے جن کے پاس حقیقی اختیار ہے، اور ان سے بھی صرف آئین کو آزاد کرنے، عدلیہ کو آزاد کرنے اور نظام کو آئین کے مطابق چلانے پر ہی بات ہوگی۔

مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل سے کوٹ لکھپت تک کا سفر، پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے کیا نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے؟

انہوں نے کہاکہ یہی وہ اصول ہیں جو علامہ اقبال کا خواب اور قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد تھی۔

’یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید رکھا جائے، ہفتوں اور مہینوں ملاقات نہ کرائی جائے اور باقی لوگ مذاکرات کرتے رہیں۔‘

سلمان اکرم راجا نے کہاکہ دسمبر 2024 اور جنوری 2025 میں پی ٹی آئی نے حکومتی ٹیم کے ساتھ پانچ نشستیں کیں، جن میں 2 بنیادی مطالبات رکھے گئے کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت اور 9 مئی و 26 نومبر کے واقعات پر آزادانہ تحقیقاتی کمیشن کا قیام کیا جائے۔

ان کے مطابق دونوں مطالبات پر یہ کہہ کر انکار کیا گیا کہ اجازت نہیں ملی۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ مذاکرات کے دوران دباؤ اور دھونس کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، حتیٰ کہ مذاکراتی وفد کے رکن اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کے گھر اور مدرسے پر حملے بھی کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقصد یہ تھا کہ پی ٹی آئی سے اصولوں کے خلاف کوئی مؤقف منوایا جائے، جو ہرگز ممکن نہیں۔

پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید رکھا جائے، ہفتوں اور مہینوں ملاقات نہ کرائی جائے اور باقی لوگ مذاکرات کرتے رہیں، جب عمران خان اس مکالمے کا حصہ ہوں گے تب ہی بات آگے بڑھے گی۔

سلمان اکرم راجا نے کہاکہ آئین و قانون کی عدم موجودگی کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں آ رہی، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے صنعتی مراکز میں صنعتیں زوال کا شکار ہیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو آئین معطل رکھنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ آئین اور عدلیہ کو آزاد کرے۔

پی ٹی آئی کی آئندہ احتجاجی حکمتِ عملی سے متعلق سوال پر سلمان اکرم راجا نے کہاکہ تبدیلی کسی ایک یا دو دن کے دھرنے سے نہیں آتی، ہم ملک کی ہر گلی، ہر چوک اور ہر محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، قوموں کی تقدیریں اجتماعی فیصلوں سے بدلتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے، کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط سامنے آگیا

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لڑ رہی ہے اور آخرکار فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے۔ ’بھیک مانگنے سے آزادی نہیں ملتی، آزادی اصولوں پر ڈٹ جانے سے ملتی ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا سیاسی مذاکرات عمران خان رہائی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا سیاسی مذاکرات عمران خان رہائی وی نیوز سلمان اکرم راجا نے کہاکہ کہ عمران خان پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی انہوں نے کریں گے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان