جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران سے وکیل کی ملاقات کی استدعا مسترد
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کارروائی 20 جنوری تک ملتوی کر دی، 2 ماہ سے عدالتی حکم کے باوجود جیل کے کورٹ روم اور انسداد دہشت گردی عدالت میں وڈیو لنک ،واٹس ایپ کال سسٹم نصب نہ ہوسکا۔
عدالت نے آئندہ تاریخ پر سسٹم فعال کرنے کا حکم دے دیا اور غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جبکہ تینوں گواہ پھر طلب کر لیے گئے، عمران خان کی جیل روبکار کے ذریعے حاضری لگائی گئی۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید بھی پیش ہوئے، وکیل صفائی ملک فیصل محمود کی مشاورت کے لئے عمران خان سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی گئی، وکیل نے موقف اختیار کیا جب تک ہمیں عمران خان تک رسائی نہیں دی جاتی ہم عدالتی کاروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وڈیو لنک ٹرائل سے متعلق پنجاب حکومت کے نوٹیفیکیشن کی کاپی وکلاء صفائی کو فراہم کر دی جبکہ وکلا وڈیو لنک وٹس ایپ ٹرائل نوٹیفیکیشن ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
عمران خان کے وکیل فیصل چودھری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ مقدمات اہمیت کھو چکے ہیں، مریخ پر بھی اگر کوئی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والا بندہ تھا اسکو بھی مقدمہ میں ڈال دیا گیا۔
ملک بحرانوں کی زد میں ہے، لگ رہا ہے حکومت کو پروا نہیں، دونوں طرف سے تلخی بہت بڑھ گئی ہے،اب ضرورت ہے اسکو کم کیا جائے، جو بھی کوششیں کرے اسکو ویلکم کرنا چاہئے۔
کوٹ لکھپت میں جو قید ہیں انکی رہائی کا سوچا جائے۔ فیصل محمود ملک نے کہا ہے کہ نو مئی کے کیسز میں بانی پی ٹی آئی کو عدالت پیش کیا جانا چاہئے۔
کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ وکیل کو اسکے کلائنٹ سے ملنے سے روکا جائے، ان سے قانونی مشاورت نہیں ہوگی تو نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیسوں کے بائیکاٹ پر مجبور ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔