مذاکرات کی بات اگر 5 بڑوں تک آگئی ہے تو اسے نا ہی سمجھا جائے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بات اگر 5 بڑوں تک آگئی ہے تو اسے نا ہی سمجھا جائے۔راولپنڈی میں داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 5 بڑے نہ تو ملاقات کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں نہیں دی جاتیں تو مذاکرات کیسے ہوں گے، ملاقات کی بھیک مانگنے کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب تھا عدالتی احکامات، ایس او پیز اور جیل قوانین کی پاسداری نہ کرکے بھی اگر ملاقاتیں نہیں دی جاتی ہیں تو یہ بھیک ہی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم ہر منگل کو آتے ہیں ملاقات کیے بغیر واپس چلے جاتے ہیں، 1 ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا بانی پی ٹی آئی سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی، ملاقاتوں کو متنازع بناکر بات کہاں سے آگے بڑھے گی، ہم نے کوشش کی حالات ٹھیک ہوں۔انہوں نے کہا کہ عمران اسماعیل کا مجھے بھی فون آیا تھا، میں نے ان کو بتایا ہم آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے، آپ جو کانفرنس کر رہے ہیں، اُس پر پارٹی کو تحفظات ہیں۔
عدالت نے مونس الہٰی کے اثاثے ضبط کرنے کی درخواست پرنیب سے جواب طلب کرلیا
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حالات معمول پر لانے کےلیے بہنوں اور وکلاء کی ملاقات ضروری ہے، جو لوگ حالات کی بہتری کےلیے کام کررہے ہیں، ان کی ستائش کرنی چاہیے۔اُن کا کہنا تھا کہ ایس او پیز ہیں، قوانین موجود ہیں، اس کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، اگر عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات نہیں دی جاتی تو یہ بھیک ہی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا کہ نہیں دی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز