فساد پھیلانے والوں کیلئےکوئی رعایت نہیں، قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی: چیف جسٹس ایران
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
فساد پھیلانے والوں کیلئےکوئی رعایت نہیں، قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی: چیف جسٹس ایران WhatsAppFacebookTwitter 0 6 January, 2026 سب نیوز
تہران (آئی پی ایس) ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے واضح کیا ہے کہ ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
خبر رساں ادارے میزان کے مطابق چیف جسٹس نے عدالتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےاٹارنی جنرل اور تمام صوبوں کے پراسیکیوٹرز کو قانون کے مطابق اور سختی کے ساتھ شرپسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔
چیف جسٹس نےملک میں حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر ہمارے ملک میں بدامنی پھیلانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران احتجاج کرنے والے شہریوں اور تخریب کار عناصر کے درمیان واضح فرق کا قائل ہے۔
ایرانی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عوام و قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کو قانون کے مطابق فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف 9 روز سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے خبر رساں ادارے ایچ آر اے این اے (HRANA) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو گئی جبکہ فائرنگ کے واقعات میں 50 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربس بہت ہو چکا، مزید دباؤ برداشت نہیں کریں گے: ٹرمپ کی دھمکی پر گرین لینڈ کے وزیراعظم کا رد عمل بس بہت ہو چکا، مزید دباؤ برداشت نہیں کریں گے: ٹرمپ کی دھمکی پر گرین لینڈ کے وزیراعظم کا رد عمل پاکستان نے وینزویلا میں کارروائیوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیا چین اور جنوبی کوریا قریبی پڑوسی ہیں، اہلیہ چینی صدر چین کی سلامتی کونسل میں وینزویلا کے خلاف امریکہ کے یک طرفہ، غیر قانونی اور تسلط پسند اقدامات پر سخت مذمت ازبکستان کے صدر کا خطاب – ملک کے مستقبل کی ترقی کے لئے اسٹریٹجک ویکٹر پیسہ ہر صوبے کے پاس ہے، صرف کام کرنیکی نیت اور ارادے کی کمی ہے: مریم نوازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قانون کے مطابق چیف جسٹس
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔