وینزویلا پر حملہ امریکی زوال کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک یا چند احمق انسان جو کسی نہ کسی طرح اختیار یا اقتدار حاصل کر لیتے ہیں ان کے فیصلے ان کے عوام، ان کے ممالک حتیٰ کہ پوری دنیا کے لیے خوفناک نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔ جنگ عظیم اوّل اور دوم جو چند بے وقوف لوگوں کی وجہ سے شروع ہوئیں ان میں سیکڑوں، ہزاروں، لاکھوں نہیں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے، تصور کیجیے کروڑوں ماؤں کے لال صرف چند بیہودہ افراد کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ گئے تاریخ کے اس عظیم المیہ کے بعد دنیا بھر کے لوگوں نے پر امن بقائے باہمی کے اصول پر دوبارہ زور دینا شروع کیا، اس کے نتیجے میں ایسے قوانین، اصول و ضوابط وضع کیے گئے جو ظلم و نا انصافی کو روک سکیں اور تہذیب و شائستگی کو فروغ دیں، اقوام متحدہ اور دیگر ادارے قائم ہوئے، دنیا میں خاصی حد تک قانون اور اعلیٰ اقدار کی بالادستی ہوئی لیکن گزشتہ چند برسوں سے دنیا میں پھر ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں اختیار اور اقتدار آنے لگا ہے جن کے نزدیک قانون، عدل و انصاف اور اعلیٰ انسانی اقدار کی قطعی اہمیت نہیں، یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لیے رنگ و نسل، قومیت، مذہب کے نعرے لگا کر لوگوں کو اپنے گرد جمع کرتے ہیں، اختیارات اور اقتدار حاصل کرتے ہیں اور پھر باقی سب لوگوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت پوری دنیا کے امن کے لیے شدید خطرہ بن گئے ہیں، وہ امریکا جیسے بڑے ملک کے سربراہ ہیں لیکن ان کا وژن کسی یونین کونسل کے کونسلر اور پنچایت کے رکن سے بھی کم ہے، اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ ایک سے بڑھ کر ایک احمقانہ فیصلے کر رہے ہیں ان کا تازہ ترین اقدام وینزویلا کے صدر مادورو کا اغوا اور وینزویلا پر قبضہ ہے، وہ اپنی اس حماقت کو کارنامہ سمجھ رہے ہیں، مادورو کے اغوا کے بعد ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرفتاری ٹی وی شو کی طرح دیکھی، کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا چند افراد زخمی ہیں دنیا میں کوئی اور ملک ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا حالانکہ انہیں کہنا چاہیے تھا کہ کوئی اور ملک ایسا جرم نہیں کر سکتا، مادورو کے اغوا سے امریکی صدر نے واضح کر دیا ہے کہ قانون، اصول، اقدار کچھ نہیں، طاقت ہی سب کچھ ہے، عالمی سطح پر ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا قانون نافذ کر دیا گیا تو دنیا ایک بار پھر پتھر کے دور میں چلی جائے گی۔ خود امریکا بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ جس ملک کی اخلاقی برتری نہ رہ سکے وہ سپر پاور بھی نہیں رہ سکتا، امریکا میں بھی جلد وہی صورتحال ہوگی جس سے تیسری دنیا کے بیش تر ممالک دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ ملکوں میں بنیادی فرق یہی تو ہے کہ وہاں قانون و انصاف کی حکمرانی ہے، دنیا بھر سے ذہین لوگ وہاں منتقل ہوتے ہیں اور ان کی ترقی میں معاون بنتے ہیں جبکہ غیر ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتیں کتنی بھی سہولتیں دینے کا اعلان کریں وہاں غیر ملکی سرمایہ کار نہیں آتے بلکہ خود مقامی سرمایہ کار بھی وہاں سے بھاگتے ہیں انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ کسی بھی تنازع کی صورت میں عدالتوں سے انہیں انصاف نہیں مل سکے گا اور ان کا سرمایہ ڈوب جائے گا۔
اس افسوسناک صورتحال کے باوجود اب بھی امید کی کرن باقی ہے کیونکہ پوری دنیا میں امریکی اقدام کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے خصوصاً چین، روس، ایران، برازیل، چلی، کولمبیا، میکسیکو، یورا گوئے، اسپین وغیرہ نے امریکی اقدام کو مسترد کر دیا ہے، یونان کے دارالحکومت ایتھنز، اٹلی کے دارالحکومت روم، فرانس کے دارالحکومت پیرس وغیرہ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور صدر ٹرمپ کی مذمت کی گئی سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکا میں بھی صدر ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے، سابق صدر کملا ہیرس، سینیٹر برنی سینڈر اور میئر نیویارک زہران ممدانی نے وینزویلا پر امریکی حملے کی مخالفت کی ہے، امریکی شہروں واشنگٹن، نیویارک، پورٹ لینڈ وغیرہ میں بھی مظاہرے کیے گئے جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی حملے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون و ضوابط کا احترام نہیں کیا جا رہا۔
جس طرح امریکا میں ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دنیا بھر کے امن پسند لوگ سخت تشویش کا شکار ہیں اسی طرح بھارت میں نریندر مودی کے گجرات کے وزیراعلیٰ بننے اور پھر بھارت کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سے اقلیتوں خصوصاً مسلمان خوف وہراس میں مبتلا ہیں، مودی نے اپنے اقتدار کی خاطر بھارت کی یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیا ہے، مسلمانوں اور عیسائیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، پولیس ظالموں کا ساتھ دیتی ہے، عدالت سے بھی مظلوموں کو انصاف نہیں ملتا حالانکہ پہلے بھارتی عدالتوں کی تحسین کی جاتی تھی مگر اب سب کچھ بدل چکا ہے، بھارتی ذرائع ابلاغ کا کردار بھی بہت گھٹیا ہے، بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو گرانے کا سلسلہ بابری مسجد کے انہدام سے شروع ہوا اب تک متعدد مساجد شہید کی جا چکی ہیں مسلمان عدالتوں میں گئے لیکن انہیں انصاف نہیں ملا عبادت گاہوں کے بعد اب مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں، لاکھوں مسلمان بے روزگار اور بے گھر ہو چکے ہیں، تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ و طالبات کو ہندوتوا کے نام پر اوباش لڑکے ہراساں کرتے ہیں حتیٰ کہ اب بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب کے دوران اسٹیج پر ایک مسلمان لیڈی ڈاکٹر کا نقاب کھینچ لیا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ جیسے اہم عہدے دار کا یہ طرز عمل ہے تو اس کے کارکنوں کی کیا اخلاقی سطح ہوگی، دور رس نگاہیں کہتی ہیں کہ امریکا اور بھارت اب دونوں کا زوال شروع ہو چکا ہے ممکن ہے مکمل زوال میں کچھ وقت لگے لیکن یہ طے ہے کہ اخلاقی برتری ختم ہونے کے بعد دونوں ملکوں کی ہر شعبے میں برتری ختم ہو جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کے بعد دنیا میں کر دیا ہیں ان
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔