Jasarat News:
2026-06-02@22:40:04 GMT

وینزویلا پر حملہ امریکی زوال کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک یا چند احمق انسان جو کسی نہ کسی طرح اختیار یا اقتدار حاصل کر لیتے ہیں ان کے فیصلے ان کے عوام، ان کے ممالک حتیٰ کہ پوری دنیا کے لیے خوفناک نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔ جنگ عظیم اوّل اور دوم جو چند بے وقوف لوگوں کی وجہ سے شروع ہوئیں ان میں سیکڑوں، ہزاروں، لاکھوں نہیں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے، تصور کیجیے کروڑوں ماؤں کے لال صرف چند بیہودہ افراد کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ گئے تاریخ کے اس عظیم المیہ کے بعد دنیا بھر کے لوگوں نے پر امن بقائے باہمی کے اصول پر دوبارہ زور دینا شروع کیا، اس کے نتیجے میں ایسے قوانین، اصول و ضوابط وضع کیے گئے جو ظلم و نا انصافی کو روک سکیں اور تہذیب و شائستگی کو فروغ دیں، اقوام متحدہ اور دیگر ادارے قائم ہوئے، دنیا میں خاصی حد تک قانون اور اعلیٰ اقدار کی بالادستی ہوئی لیکن گزشتہ چند برسوں سے دنیا میں پھر ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں اختیار اور اقتدار آنے لگا ہے جن کے نزدیک قانون، عدل و انصاف اور اعلیٰ انسانی اقدار کی قطعی اہمیت نہیں، یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لیے رنگ و نسل، قومیت، مذہب کے نعرے لگا کر لوگوں کو اپنے گرد جمع کرتے ہیں، اختیارات اور اقتدار حاصل کرتے ہیں اور پھر باقی سب لوگوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت پوری دنیا کے امن کے لیے شدید خطرہ بن گئے ہیں، وہ امریکا جیسے بڑے ملک کے سربراہ ہیں لیکن ان کا وژن کسی یونین کونسل کے کونسلر اور پنچایت کے رکن سے بھی کم ہے، اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ ایک سے بڑھ کر ایک احمقانہ فیصلے کر رہے ہیں ان کا تازہ ترین اقدام وینزویلا کے صدر مادورو کا اغوا اور وینزویلا پر قبضہ ہے، وہ اپنی اس حماقت کو کارنامہ سمجھ رہے ہیں، مادورو کے اغوا کے بعد ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرفتاری ٹی وی شو کی طرح دیکھی، کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا چند افراد زخمی ہیں دنیا میں کوئی اور ملک ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا حالانکہ انہیں کہنا چاہیے تھا کہ کوئی اور ملک ایسا جرم نہیں کر سکتا، مادورو کے اغوا سے امریکی صدر نے واضح کر دیا ہے کہ قانون، اصول، اقدار کچھ نہیں، طاقت ہی سب کچھ ہے، عالمی سطح پر ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا قانون نافذ کر دیا گیا تو دنیا ایک بار پھر پتھر کے دور میں چلی جائے گی۔ خود امریکا بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ جس ملک کی اخلاقی برتری نہ رہ سکے وہ سپر پاور بھی نہیں رہ سکتا، امریکا میں بھی جلد وہی صورتحال ہوگی جس سے تیسری دنیا کے بیش تر ممالک دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ ملکوں میں بنیادی فرق یہی تو ہے کہ وہاں قانون و انصاف کی حکمرانی ہے، دنیا بھر سے ذہین لوگ وہاں منتقل ہوتے ہیں اور ان کی ترقی میں معاون بنتے ہیں جبکہ غیر ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتیں کتنی بھی سہولتیں دینے کا اعلان کریں وہاں غیر ملکی سرمایہ کار نہیں آتے بلکہ خود مقامی سرمایہ کار بھی وہاں سے بھاگتے ہیں انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ کسی بھی تنازع کی صورت میں عدالتوں سے انہیں انصاف نہیں مل سکے گا اور ان کا سرمایہ ڈوب جائے گا۔

اس افسوسناک صورتحال کے باوجود اب بھی امید کی کرن باقی ہے کیونکہ پوری دنیا میں امریکی اقدام کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے خصوصاً چین، روس، ایران، برازیل، چلی، کولمبیا، میکسیکو، یورا گوئے، اسپین وغیرہ نے امریکی اقدام کو مسترد کر دیا ہے، یونان کے دارالحکومت ایتھنز، اٹلی کے دارالحکومت روم، فرانس کے دارالحکومت پیرس وغیرہ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور صدر ٹرمپ کی مذمت کی گئی سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکا میں بھی صدر ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے، سابق صدر کملا ہیرس، سینیٹر برنی سینڈر اور میئر نیویارک زہران ممدانی نے وینزویلا پر امریکی حملے کی مخالفت کی ہے، امریکی شہروں واشنگٹن، نیویارک، پورٹ لینڈ وغیرہ میں بھی مظاہرے کیے گئے جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی حملے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون و ضوابط کا احترام نہیں کیا جا رہا۔

جس طرح امریکا میں ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دنیا بھر کے امن پسند لوگ سخت تشویش کا شکار ہیں اسی طرح بھارت میں نریندر مودی کے گجرات کے وزیراعلیٰ بننے اور پھر بھارت کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سے اقلیتوں خصوصاً مسلمان خوف وہراس میں مبتلا ہیں، مودی نے اپنے اقتدار کی خاطر بھارت کی یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیا ہے، مسلمانوں اور عیسائیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، پولیس ظالموں کا ساتھ دیتی ہے، عدالت سے بھی مظلوموں کو انصاف نہیں ملتا حالانکہ پہلے بھارتی عدالتوں کی تحسین کی جاتی تھی مگر اب سب کچھ بدل چکا ہے، بھارتی ذرائع ابلاغ کا کردار بھی بہت گھٹیا ہے، بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو گرانے کا سلسلہ بابری مسجد کے انہدام سے شروع ہوا اب تک متعدد مساجد شہید کی جا چکی ہیں مسلمان عدالتوں میں گئے لیکن انہیں انصاف نہیں ملا عبادت گاہوں کے بعد اب مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں، لاکھوں مسلمان بے روزگار اور بے گھر ہو چکے ہیں، تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ و طالبات کو ہندوتوا کے نام پر اوباش لڑکے ہراساں کرتے ہیں حتیٰ کہ اب بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب کے دوران اسٹیج پر ایک مسلمان لیڈی ڈاکٹر کا نقاب کھینچ لیا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ جیسے اہم عہدے دار کا یہ طرز عمل ہے تو اس کے کارکنوں کی کیا اخلاقی سطح ہوگی، دور رس نگاہیں کہتی ہیں کہ امریکا اور بھارت اب دونوں کا زوال شروع ہو چکا ہے ممکن ہے مکمل زوال میں کچھ وقت لگے لیکن یہ طے ہے کہ اخلاقی برتری ختم ہونے کے بعد دونوں ملکوں کی ہر شعبے میں برتری ختم ہو جائے گی۔

احمد حسن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کے بعد دنیا میں کر دیا ہیں ان

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان