میں وینزویلا کا اب بھی صدر ہوں، مجھے اغوا کیا گیا ہے، نکولس مادورو کا امریکی عدالت میں بیان
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
جج نے مادورو کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے، جن میں منشیات اور دہشت گردی کے الزامات شامل تھے۔ تاہم مادورو نے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی عدالت میں الزامات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں وینزویلا کا اب بھی صدر ہوں، مجھے اغوا کیا گیا ہے۔مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلن سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن لایا گیا جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت منتقل کیا گیا۔ امریکی میڈیا کےمطابق مادورو کو قیدیوں کا یونیفارم پہنائے اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کو ہسپانوی زبان میں سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون بھی پہن رکھے تھے۔ وفاقی عدالت کے جج نے مادورو سے اپنی شناخت بتانے کو کہا تو انہوں نے بتایا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔ جج نے مادورو کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے، جن میں منشیات اور دہشت گردی کے الزامات شامل تھے۔ تاہم مادورو نے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا میں بے گناہ ہوں، میں اب بھی اپنے ملک کا صدر اور مہذب آدمی ہوں، یہاں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی کا بھی میں قصوروار نہیں ہوں، مجھے اغوا کیا گیا ہے۔
مادورو کی اہلیہ نے بھی اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا وہ بے قصور اور بے گناہ ہیں۔ جج نے مقدمے میں لمبی تاریخ دیتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ اس سے پہلے مادورو کی ٹانگوں کی زنجیروں کی آواز عدالت میں داخل ہونے سے پہلے سنائی دی، جہاں انھوں نے مڑ کر سر ہلایا اور سامعین میں موجود کئی لوگوں کو خوش آمدید کہا۔ سب سے زیادہ کشیدہ لمحہ عدالت کے اختتام پر آیا، جب عوام میں سے ایک شخص نے مادورو پر ہسپانوی زبان میں چیخنا شروع کیا کہ وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ مادورو نے ان کی طرف رخ کیا اور ہسپانوی میں جواب دیا کہ وہ اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہیں۔ اس کے بعد انھیں ان کی بیوی کے پیچھے زنجیروں میں جکڑ کر عدالت کے پچھلے راستے دروازے سے باہر لے جایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا گیا ہے عدالت میں
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔