سگی بیٹی سے زیادتی ثابت، باپ کو 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کراچی کی سٹی کورٹ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی نے کورنگی صنعتی ایریا میں سگی بیٹی سے زیادتی کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم عرفان کو 10 سال قید بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
مزید پڑھیں: بھارت، چلتی وین میں اجتماعی زیادتی، ملزمان گرفتار، متاثرہ خاتون شدید صدمے سے دوچار
عدالت نے حکم دیا کہ جرمانے کی پوری رقم متاثرہ بچی کو بطور معاوضہ ادا کی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ موجود نہیں اور تفتیش کے دوران بعض اہم شواہد مکمل طور پر جمع نہ کیے جا سکے، جس کے باعث سزا میں کچھ نرمی برتی گئی۔
فیصلے میں عدالت نے دفاع کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ جائیداد ہتھیانے کے لیے ملزم کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک ماں اپنی ہی بیٹی سے متعلق ایسا سنگین اور جھوٹا الزام نہیں لگا سکتی۔
مزید پڑھیں: بھارت میں چلتی وین میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی، 2 گھنٹے بعد سڑک پر پھینک دیا گیا
استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ ستمبر 2023 میں کورنگی کے علاقے میں پیش آیا تھا، جس پر ملزم کے خلاف کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت نے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی زیادتی سٹی کورٹ کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی زیادتی سٹی کورٹ کراچی عدالت نے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔