بجلی بلز میں ٹیکس وصولی: کے الیکٹرک نے کے ایم سی کی طرف سے کتنی رقم جمع کی؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کراچی:
بجلی کے بلوں میں ٹیکس وصولی کے کیس میں وکیل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک نے کے ایم سی کی طرف سے کتنی رقم وصول کرلی۔
سندھ ہائیکورٹ میں بجلی کے بلوں میں میونسپل ٹیکس کی وصولی کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلا سے حتمی دلائل طلب کرلیے۔
آج ہونے والی سماعت میں طارق منصور ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں عدالت کوبتایا کہ کے ایم سی کی طرف سے کے الیکٹرک 264 کروڑ روپے جمع کر چکی ہے۔ 29 مئی 2024 کو ہائیکورٹ حکم میں قرار دے چکی ہے کہ کے ایم سی کی وصولی عارضی ہے۔ کے ایم سی کی تمام ریزولوشن کا فیصلہ اس پٹیشن میں کیا جائے گا۔ عدالت سے استدعا ہے کہ اس پٹیشن کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کی جائے۔
درخواست گزار کے مطابق اس ٹیکس کے متعلق مزید درخواستیں بھی دائر کی گئیں ہیں۔ جب تک اس درخواست کا فیصلہ نہیں ہوگا دوسری درخواستوں پر فیصلوں پر بھی عملدرآمد نہیں ہوسکتا۔ عدالت اس درخواست پر قرار دے چکی ہے کہ ٹیکس وصولی کا حتمی فیصلہ اس درخواست کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔
طارق منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایم یو سی ٹی چارجز کا نفاذ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کی خلاف ورزی ہے۔ نیپرا بھی کے الیکٹرک کی جانب سے کے ایم سی ٹیکس وصولی کو خلاف قانون قرار دے چکا ہے۔ مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب عدالت کے 29 مئی 2024 کے احکامات کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے مطابق یوٹیلیٹی ٹیکس کے الیکٹرک کے ذریعے وصولی کے بارے میں تفصیلی بحث ضروری تھی۔ مئیر کراچی نے اس معاملے پر کمیٹیوں کو بریف کیا نہ ایوان میں بحث کا موقع دیا۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 14 تاریخ تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ایم سی کی ٹیکس وصولی کے الیکٹرک
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔